Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کیا نائن زیرو ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے ہورہا ہے؟ | زرائع نیوز

کیا نائن زیرو ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے ہورہا ہے؟

کراچی: گزشتہ دو روز سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور ایک پیغام زیرگردش ہے کہ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کو خورشید میموریل ہال اور نائن زیرو دینے کا فیصلہ کرلیا۔

یاد رہے کہ 22 اگست 2016 کے بعد نائن زیرو کو رینجرز نے سیل کیا جس کے بعد شہر بھر میں موجود ایم کیو ایم کے دفاتر جو سرکاری اراضی پر بنائے گئے تھے انہیں بھی مسمار کیا گیا۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ تینوں سالوں کے دوران چار سے پانچ مرتبہ یہ شور اٹھ چکا ہے کہ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کو نائن زیرو سمیت تمام دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی البتہ ذرائع کو ملنے والی مصدقہ اطلاع کے مطابق وزیراعظم پاکستان ایم کیو ایم کی اس شرط کو ماننے سے انکاری ہیں۔

نائن زیرو ایم کیو ایم کے حوالے کرنے کے حوالے سے جب ذرائع نیوز کے نمائندے نے سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام سے تصدیق کی تو انہوں نے اس بات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’دفاتر سیل کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کی طرف سے ہے‘‘۔

’’ نائن زیرو چلے گا دوبارہ چلے گا ‘‘

’’خورشید بیگم ہال سمیت دیگر دفاتر کو دوبارہ حوالے کرنے کے حوالے سے فیصلہ صوبائی سطح پر نہیں بلکہ وفاقی سطح پر کیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ وہاں رینجرز کے ساتھ سندھ پولیس بھی تعینات ہے‘‘۔

وفاقی حکومت سے ذرائع نیوز کے نمائندے نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو کوئی کلیئر جواب نہ مل سکا، ایم کیو ایم کے اعلیٰ عہدیدار (رابطہ کمیٹی) رکن نے میسج پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’فی الحال اس طرح کی کوئی بات چیت نہیں چل رہی‘‘۔

واضح رہے کہ کراچی کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی مظہر عباس بھی چند ماہ قبل اپنے ایک کالم میں واضح بتا چکے ہیں کہ ایم کیو ایم پر جتنا بھی اعتماد ہوجائے البتہ انہیں دفاتر نہیں دیے جائیں گے۔