یکم اگست 2019 سے ملک بھر کے 31 لاکھ ریٹیلرز کے ساتھ کیا ہوگا ؟ تحریر: محمد نعیم میر

ایف بی آر نے ملک بھر کے ریٹیلرز کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، ‘ٹئیر ون’ اور ‘ ٹئیر ٹو ‘ ، ‘ ٹئیر ون ‘ یہ ہے کیا؟ آئیے آپ کو بتاتا ہوں۔

ایف بی آر کے نوٹیفیکیشن کے مطابق اگر آپ کی دکان ایک ہزار مربع فٹ یا اس زیادہ کورڈ ایریاپر مشتمل ھے، آپ کی دکان ائیر کنڈیشنڈ مال میں موجود ھے، آپکا بجلی کا کمرشل بل 6 لاکھ روپے سالانہ یا اس سے زیادہ ھے ، آپ ھول سیلر / ریٹیلر ہیں،آپ انٹرنیشنل یا نیشنل چین سٹور چلا رھے ہیں تو آپ ٹئیر ون کے ریٹیلر ہیں

قانون کے مطابق۔۔۔!!

آپکی دکان پر کمپیوٹر ، وائی فائی ھونا ضروری ھے، اس کمپیوٹر میں آپکو ایف بی آر کی طرف سے ایسا سافٹ وئیر دیا جائے گا جو ایف بی آر اسلام آباد کے ساتھ کونکٹڈ ھوگا اور آپکی تمام تر تجارتی سرگرمیوں کو ایف بی آر مانیٹر کرے گا

آپ نے اپنے گاہکوں سے  50 ہزار یا اس سے زیادہ کی سیل انوائس پر شناختی کارڈ نمبر بھی درج کرنا ھوگا۔ آپ سیلز ٹیکس میں لازمی رجسٹرڈ ھونگے ، اپنے گاھک سے ہر سیل انوائس پر 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کریں گے، اپنی ماھانہ سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروائیں گے اور جو سیلز ٹیکس گاھکوں سے اکٹھا ھوگا وہ بھی ماھانہ بنیادوں پر خزانے میں جمع کروائیں گے۔

آپ اپنے خریدے گئے مال کی جب بھی ادائیگی( پےمنٹ) کریں گے تو ہر پے منٹ پر 5۔4 فیصد ودھولڈنگ ٹیکس کٹوتی کریں گے اور ہر 6 ماہ بعد ودھولڈنگ ٹیکس کی ریٹرن جمع کروائیں گے اور ودھولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی رقم بھی خزانے میں جمع کروائیں گے۔

آپ ہر مالی سال کا اپنا پرافٹ اینڈ لاس اکاونٹ بھی تیار کریں گے اور اپنی ٹوٹل سالانہ سیل ( ٹرن اوور ) پر کم سے کم 5۔1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس جمع کروانے کے پابند ہونگے ۔

چونکہ ٹئیر ون میں شامل ریٹیلرز کا نیٹ پرافٹ ایف بی آر کا سافٹ وئیر خود نکالے گا لہذا نیٹ پرافٹ اگر 5۔1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی رقم سے زیادہ ھوگا تو نیٹ پرافٹ پر 35 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا ھوگا۔

یہ ضروری نہیں کہ ٹئیر ون کے ریٹیلرز کو اپنا ٹرن اوور ٹیکس سال بعد ہی جمع کروانا ھو، ایف بی آر کو یہ اختیار ھوگا کہ ہر تین ماہ بعد ایڈوانس ٹیکس وصول کرنے کا نوٹس دے کر بھی 5۔1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس سہ ماہی بنیادوں پر بھی وصول کرسکے۔

“ٹئیر ٹو” کے ریٹیلرز کون ہیں؟

اگر آپکا بجلی کا کمرشل بل 20 ہزار روپے ماھانہ تک ھے تو آپکو بجلی کے بل پر 5 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنا ھوگا۔

اگر آپ کا بجلی کا کمرشل بل 20 ہزار ماھانہ سے زیادہ اور 50 ہزار ماھانہ سے کم ھے تو 5۔7 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنا ھوگا۔

دونوں صورتوں میں آپکو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ھونا لازمی نہیں لیکن بات ابھی یہاں ختم نہیں ھوتی

ٹئیر ٹو میں شامل تمام ریٹیلرز اپنے مال کی خریداری مینوفیکچر / امپورٹر/ ڈسٹری بیوٹر/ ھول سیلر سے کرتے ہیں۔

ٹئیر ٹو کا ریٹیلر جب ایک روپے کا مال بھی خریدے گا تو اپنی خریداری کی ہر انوائس پر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کروائے گا

پھر کیا ھوگا۔۔۔!!

پہلے مہینے ہی ٹئیر ٹو کے ریٹیلرز کی تمام خریداری کی تفصیلات ایف بی آر کے پاس پہنچ جائیں گیں جب آپ کو مال فروخت کرنے والا اپنی سیلز ٹیکس ریٹرن ماھانہ بنیاد پر ایف بی آر کو جمع کروائے گا

یاد رکھیں ۔۔۔!!

آپ کی پرچیز ایک حد سے زیادہ ھونے کی صورت میں محکمہ آپکو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ کرنے کا صرف نوٹس نہیں دے گا بلکہ آٹومیٹک طریقہ کار سے زبردستی آپکو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ کرلیا جائےگا

مزید یہ کہہ۔۔۔!!

آپکا سالانہ سیل ریکارڈ بھی محکمے کے پاس آپکے شناختی کارڈ نمبر کے اندارج کے ساتھ پہنچ چکا ھوگا۔

اب آپ ایک اور نوٹس کے لئے تیار ھو جائیں اور وہ ھے انکم ٹیکس کا ٹرن اوور کا نوٹس

آپ کو اپنی ٹرن اوور پر 5۔1 فیصد کم سے کم ٹرن اوور ٹیکس دینا تھا ، اگر آپ نے اپنی سیل اپنی ٹیکس ریٹرن میں کم ظاہر کی ھے تو آپ بچ نہیں سکتے اس لئے کہ آپ نے اپنی ہر خریداری پر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کروایا ھے اور ایف بی آر آپ کی سیل کے ریکارڈ تک پہلے ہی پہنچ چکا ھےاور اگر آپ نے اپنی مکمل سیل ظاہر کی ھے تو ہر تین مہینے بعد اپنی ٹرن اوور پر 5۔1 فیصد کی شرح سے ایڈوانس ٹیکس بھی جمع کروانا ھوگا۔

اب آپ ایف بی آر شکنجے میں آچکے ہیں

آپ کا یوم حساب شروع۔۔۔!!

آپ کو مکمل ٹرن اوور ٹیکس بھی دینا ھوگا اور اپنا پرافٹ اینڈ لاس اکاونٹ بھی تیار کرنا ھوگا، بھاری جرمانہ اور سزا بھی ھوسکتی ھے اور اب آپ نے ایف بی آر حکام کی جیب گرم بھی لازمی کرنی ھے کیونکہ اگر آپ نے ایف بی آر حکام کی جیب مسلسل گرم نہ کی تو عملہ آپ کو ہر وقت ٹئیر ٹو سے نکال کر ٹئیر ون میں شامل کرنے کی دھمکی اور بلیک میلنگ کرتا رھے گا۔

اور پھر

جب آپ ایک دفعہ ٹئیر ون میں شامل ھو گئے تو آپ ایف بی آر کے بغیر تنخواہ کے وہ ملازم بن جائیں گے جس کو کارکردگی دکھانے پر کوئی ستائش نہیں ملے گئ اور غلطی کرنے پر سخت سزا کا حقدار ھوگا۔

اب آپ مکمل پھنس چکے ہیں

اس جال سے نکلنے کا طریقہ کیا ھے؟؟؟

آپ نے اپنی خریداری انوائس پر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج نہیں کروانا اور غلط شناختی کارڈ نمبر تو بالکل بھی درج نہیں کروانا کیونکہ آپ عام عوام نہیں، آپکی دکان ، گھر کا پتہ فون نمبر وغیرہ تمام معلومات آپ کو مال فروخت کرنے والے کے پاس موجود ہیں لہذا آپ پکڑ میں لازمی آجائیں گے۔

اور ایک اھم بات۔۔۔!!

آپ نے اپنے گاھک کو مال فروخت کے وقت بھی 50 ہزار یا زائد بل پر گاھک کا شناختی کارڈ نمبر لازمی درج کرنا ھے، غلط شناختی کارڈ نمبر درج کرنے پر آپ جرمانے اور سزا کے مستحق ٹہریں گے۔

اب پھر کیا کریں؟؟؟

آپکی قیادت آپکے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کے نظام کے اجراء کی کوشش کر رہی ھے۔

اپنی قیادت کی بات پر دھیان رکھیں، احتجاج و ہڑتال کی کال پر بھرپور شرکت کریں، اور اپنا دباو حکومت پر اتنا بڑھائیں کہ حکومت آپکو فکسڈ ٹیکس نظام دینے پر مجبور ھوجائے۔

ایک بات یاد رکھیں ۔۔!!

ھم ٹیکس ادائیگی سے انکاری نہیں ہیں، ھماری آمدن اتنی نہیں کہ ٹیکس کنسلٹنٹ کی بھاری فیس ادا کر پائیں، ہم تمام تر ڈاکومنٹیشن کے لئے ماہر اکاؤنٹینٹ کی خدمات کا معاوضہ دینے کے بھی اھل نہیں اور نہ ہی اتنے پڑھے لکھے ہیں کہ خود تمام ڈاکومنٹیشن کرسکیں، ھم ایف بی آر حکام کی بلیک میلنگ سے بھی ہمیشہ کے لئے نجات چاھتے ہیں، اسی لئے آسان اور سہل نظام کا جائز مطالبہ دھرا رھے ہیں۔

صرف اور صرف آپکا مثالی اتحاد اور اپنی قیادت پر بھرپور اعتماد ہی آپکو منزل مقصود تک پہنچا سکتا ھے۔

*اپنی قیادت کے فیصلوں پر من و عن عمل کریں انشاء اللہ سب سرخرو ھونگے۔ برائے مہربانی اس تحریر کو اپنی مارکیٹ کے ہر تاجر کو بھیج دیں۔ محمد اجمل بلوچ صدر آل پاکستان انجمن تاجران و

محمد نعیم میر

مرکزی سیکرٹری جنرل آل پاکستان انجمن تاجران

اپنا تبصرہ بھیجیں: