کرونا وائرس، واشنگٹن پوسٹ‌ کی پریشان کن رپورٹ

عالمی سطح پر معتبر گردانے امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں ایک تحقیقاتی رپورٹ چھپی ہے۔گزشتہ دودنوں سے بے تحاشہ لوگوں کو اس نے پریشان کررکھا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق کرونا کی زد میں آئے مریضوں کی واشنگٹن کے جدید ترین ہسپتال ’’مائونٹ سینائی ‘‘ میں ہنگامی بنیادوں پر دیکھ بھال کرتے ڈاکٹر اس خدشے کا اظہار کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ یہ وباء فقط 60سال سے زائد عمر والے افراد ہی کے لئے جان لیوا ثابت نہیں ہورہی۔ یہ مفروضہ بھی قابل غور ہے کہ کرونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہوجانے کے بعد محض ہمارے نظام تنفس کو اپنی جکڑ میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مذکورہ ہسپتال میں اچانک ان مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا جو فالج کے حملے کے باعث ایمبولینس میں وہاں لائے جارہے تھے۔ ان میں سے اکثر مریض 30سے 50سال کے درمیان والی عمر کے تھے۔ نظر بظاہر فالج کا نشانہ بنے مریضوں کا تشخیصی عمل شروع ہوا تو یہ دریافت ہوا کہ ابتدائی طورپر وہ کرونا کی زد میں آئے تھے۔وائرس جب ان پر حملہ آور ہوا تو ان کے جسم میں فطری طورپر موجود مدافعتی نظام نے بھرپور مزاحمت دکھائی۔ اس مزاحمت کی بدولت وائرس پھیپھڑوں میں داخل نہ ہوپایا تو ان کے دماغ کی جانب بڑھنا شروع ہوگیا۔ وہاں داخل ہونے کے بعد کرونا وائرس دماغ کو خون مہیا کرنے والی رگوں میں قیام پذیر ہوگیا۔

دماغ کی رگوں میں خون کی ترسیل اس ’’ناکے‘‘ کی بدولت رکتی ہے جسے طبی زبان میں Clotکہا جاتا ہے۔فالج کی زد میں آئے مریضوں کے دماغ سے Clotکو نکال کر خون کی روانی بحال کردی جاتی ہے۔کرونا وائرس سمیت فالج کا شکار ہوئے مریضوں کے دماغ مگر CT Scanکی بدولت دیکھے گئے تو وہاں Clotsایک جال کی صورت پھیلتے نظر آئے۔تناسب کے اعتبار سے لہذا انتہائی قلیل تعداد کو بچانے کی کوششیں بارآور ہوئیں۔ ’’صحت یاب‘‘ ہوجانے کے باوجود ایسے مریضوں کے ہاتھ یا پائوں عمر بھر کے لئے مفلوج ہوگئےہے۔

’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں چھپی یہ رپورٹ کئی اعتبار سے انتہائی پریشان کن تھی۔ ٹھوس شہادتوں کی بنیاد پر یہ رپورٹ کرونا وائرس کے بارے میں پھیلے کم از کم دو مفروضوں کے ضمن میں اہم ترین سوالات اٹھاتی ہے۔پہلا مفروضہ یہ کہ کرونا ’’نزلہ زکام‘‘ ہی کی ایک قسم ہے جو ہمارے نظام تنفس کو اپنی جکڑ میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم اور مقبول ترین مگر یہ تصور ہے کہ اگر کرونا وائرس 18سے 50سال کے درمیان والی عمر کے لوگوں پر حملہ آور ہو تو ان کی بے پناہ اکثریت ہمارے جسم میں فطری طورپر موجود مدافعتی نظام کی بدولت زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں میں ’’ازخود‘‘ شفایاب ہوجاتی ہے۔

18سے 50سال کے درمیان والے افراد کی اکثریت کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان ہی نہیں دُنیا کے بے شمار ملکوں کی حکمران اشرافیہ اصرار کررہی ہے کہ وباء کے موسم میں شہروں کو مسلسل لاک ڈائون کی زد میں نہ رکھا جائے۔ خوف سے گھروں میں محصور نہ رہا جائے۔زیادہ تر کاروبار کھول دئیے جائیں۔ 60برس سے زائد عمر کے لوگ اگرچہ گھروں ہی میں بیٹھے رہیں۔زندگی کسی نہ کسی صورت رواں ہوگئی تو آبادی کی اکثریت Herd Immunityکی بدولت کرونا کے نام پر مسلط ہوئی وباء کو گزرجانے کی سہولت فراہم کردے گی۔کاروبار مکمل طورپر بند ہوجانے کی وجہ سے کرونا شاید لاشوں کے انبار نہ لگاپائے۔بے روزگاری مگر فاقہ کشی کو فروغ دے گی۔کرونا سے محفوظ رہے افراد بالآخر بھوک کی وجہ سے موت کی لپیٹ میں آنا شروع ہوجائیں گے۔

’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں چھپی رپورٹ کو دو سے زیادہ مرتبہ انتہائی تشویش کے عالم میں پڑھنے کے بعد میں نے ا پنے فون پر لگائے ٹویٹر اکائونٹ کا رُخ کیا۔ ہمارے ریگولر اور سوشل میڈیا میں اس رپورٹ کا ذکر نہ ہونے کے برابر تھا۔ صحت عامہ کے ایک امریکی ماہر کے اس دعویٰ پر البتہ اطمینان بھرے دل سے غورکیا جارہا تھا کہ تیز دھوپ کرونا وائرس کے خاتمے میں مدد کارثابت ہوگی۔’’چسکے‘‘ کی طلب میں اس رپورٹ کا ذکر بھی ہورہا تھا جس نے ’’دریافت‘‘ کیا ہے کہ سگریٹ نوشی کے عادی افراد کی اکثریت کرونا وائرس سے محفوظ رہی۔ اس رپورٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومتِ فرانس کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ ہمارے جسم کو نیکوٹین فراہم کرنے والی گولیاں یا Patchesکے فروخت میں احتیاط برتی جائے۔ لوگوں کو بارہا یہ بھی یا ددلانا ضروری تھا کہ سگریٹ نوشی ہر حوالے سے مضرِ صحت ہے۔اس سے اجتناب ضروری ہے۔

بحیثیت ایک ریٹائرڈ رپورٹر میری شدید خواہش تھی کہ میرے چند متحرک اور نوجوان ساتھی پاکستان کے ہسپتالوں کا رُخ کریں۔وہاں سے یہ معلوم کرنے کی کوشش ہوکہ وشنگٹن کی طرح لاہور،کراچی یا اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بھی فالج کی زد میں آئے مریضوں کی تعداد میں ’’اچانک‘‘ اضافہ تو نہیں ہورہا۔ اس ضمن میں کوئی سنجیدہ کاوش مگر نظر نہیں آئی۔ گزشتہ ہفتے کا آخری کالم میں نے جمعرات کی صبح لکھا تھا۔اسے دفتر بھیجنے کے بعد گہری نیند سوگیا۔سہ پہر اُٹھا تو ہمارے میڈیا اس ٹیلی تھان کا منتظر نظر آیا جس میں وزیر اعظم نے بذاتِ خود شریک ہوکر لوگوں سے کرونا کے مقابلے کے لئے چندے کی اپیل کرنا تھی۔ ٹی وی میں دیکھتا نہیں ہوں۔ وہ ٹیلی تھان ختم ہوگئی تو سوشل میڈیا کی بدولت دریافت ہوا کہ ہمارے ایک جید اور عوام میں انتہائی مقبول مولانا طارق جمیل صاحب کی مذکورہ Eventکے اختتام پر کروائی ’’دُعا‘‘ ایک بھرپور بحث کا ا ٓغاز کر بیٹھی ہے۔ تاثر اس ’’دُعا‘‘ کے سبب یہ پھیلا کہ ’’بے حیائی‘‘ عورتوں کی وجہ سے پاکستان پر کرونا کا عذاب نازل ہوا۔ اس کے علاوہ ’’جھوٹ کو فروغ‘‘ دیتے میڈیا کے لئے بھی ہدایت کی فریاد ہوئی۔

جھوٹ کو مبینہ طورپر فروغ دیتے میڈیا کے سیلیبرٹی اینکر حضرات کی اکثریت مذکورہ ٹیلی تھان میں وزیر اعظم کے ہمراہ موجود تھی۔ ان میں سے چند خود کو ’’جھوٹا‘‘ شمار کرنے پر بہت چراغ پا نظر آئے۔وہ Gang Upہوئے تو طارق جمیل صاحب نے میرے بھائی محمد مالک کے شو میں نمودار ہوکر غیر مشروط معذرت کا اظہار کردیا۔ معاملہ مگر ختم نہیں ہوا۔ ٹیلی تھان کے عین دوسرے روزوزیر اعظم صاحب نے یوٹیوب پر لوگوں کی ذہن سازی کے مشن پر مامور حق گو نوجوانوں کے ایک وفد سے طویل ملاقات کی۔دورِ حاضر کے ذہن ساز نوجوانوں کو عمران خان صاحب نے مطلع کیا کہ 2012کے بعد ہمارے اینکر خواتین وحضرات کی اکثریت نے ’’چور اور لٹیرے‘‘ سیاست دانوں سے بھاری رقوم لے کر خلقِ خدا کو گمراہ کرنا شروع کردیا۔ عوام مگر بہت ہوشیار ہوتے ہیں وہ ’’بکائو‘‘ میڈیا کے جھانسے میں نہیں آئے۔ اینکر خواتین وحضرات بلکہ اپنی ساکھ لٹابیٹھے۔اب ان کے پروگراموں کو لوگوں نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔

’’بکائو‘‘ میڈیا کی بے نقابی کے بعد ابلاغ کے شعبے میں جو خلاء پیدا ہوا ہے اسے حق گو نوجوانوں کو یوٹیوب پربنائے چینلوںکے ذریعے پُرکرنا چاہیے۔لوگوں کو ’’انفارمیشن‘‘ یعنی ٹھوس اطلاعات پہنچانے کے علاوہ یوٹیوب پر چھائے نیک طینت Influencersکو وطن عزیز میں پھیلی فحاشی کا مقابلہ بھی کرنا چاہیے۔ مغربی اقدار کے مقابلے میں مشرقی اقدار کو اجاگر کیا جائے۔ہماری اقدار محفوظ نہ رہیں تو ہمارا خاندانی نظام طلاق کی شرح بڑھ جانے کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائے گا۔ مشرقی اقدار کو ٹیلی وژن سکرینوں پر کیسے پیش کرنا ہے اس ہنر کو جاننے کے لئے اس ٹی وی ڈرامے سے رجوع کیا جائے جو ترکی میں مقبول ہوا تھا۔ اسے اُردو زبان میں ڈب کرکے ان دنوں PTVپر دکھایا جارہا ہے۔ عمران خان صاحب کی گفتگو سے فیض یاب ہونے کے بعد یوٹیوب پر چھائے حق گو ذہن سازوں نے جرأت ایمانی سے ان ’’خونی لبرلز‘‘ اور ’’بکائوصحافیوں‘‘ کی کلاس لینا شروع کردی جو مولانا طارق جیل صاحب جیسی دیندار شخصیت کے خلاف Gang Up ہوگئے تھے۔

مشرقی اقدار کے تحفظ کے لئے چھڑی اس جنگ کی گہماگہمی نے اس ملک میں ابھی تک ’’ناقابلِ فروخت‘‘ ٹھہرائے کسی صحافی کو یہ مہلت ہی نہ دی کہ وہ لاہور،کراچی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں کرونا کے خلاف جنگ میں مصروف ڈاکٹروں سے یہ جاننے کی کوشش کرے کہ حالیہ دنوں میں کرونا کے علاوہ فالج کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا نظر تو نہیں آرہا۔ میڈیا جھوٹ سے آزاد ہوتا تو دکھائی دیتا ہے۔’’انفارمیشن‘‘ یعنی ٹھوس اطلاعات کی تلاش کا سفر لیکن ابھی تک شروع نہیں ہوا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

اپنا تبصرہ بھیجیں: