جامعہ کراچی؛ پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو 2 برس سے وظائف کی عدم ادائیگی کا معاملہ شدت اختیار کرگیا
ایم فل اور پی ایچ ڈی کے 52 طلبہ فنانس ایڈ آفس کے چکر کاٹنے پر مجبور، ڈائریکٹر فنانس طارق کلیم کا وضاحت دینے سے انکار
جامعہ کراچی میں مختلف شعبہ جات کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے 52 طلبہ کو گزشتہ 2 بر س سے وظیفہ کی عدم ادائیگی کا معاملہ پیچیدگی اختیار کرگیا جبکہ جامعہ کے ڈائریکٹر فنانس (ڈی ایف) طارق کلیم نے معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی ہے۔
کراچی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس (ڈی ایف) کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ 2019 کے وسط میں اسٹوڈنٹ فنانس ایڈ آفس (ایس ایف اے او) نے ضابطے کی کارروائی کرکے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے بالترتیب 8 اور 10 ہزار روپے ماہوار وظیفہ مقرر کیا تھا لیکن پہلے ایک سال میں چند ادائیگیوں کے بعد نامعلوم وجوہات کی بنا پر سلسلہ منقطع ہوگیا۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ایم فل کے طلبہ کو ایک سال کے لیے ہر ماہ 8 ہزار روپے جبکہ پی ایچ ڈی طلبہ کو دو سال کے لیے ہر ماہ 10 ہزار روپے وظیفہ ملنا طے ہوا تھا، ایم فل کے 31 طلبہ کو 80 فیصد ادائیگی کردی گئی لیکن پی ایچ ڈی کے 21 طلبہ کو 14 ماہ سے وظیفہ کی ادائیگی نہیں کی گئی۔
اس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ وظیفے کی کُل رقم بھی جامعہ کراچی کو موصول ہوچکی ہے لیکن ڈائریکٹر فنانس کی جانب رقم کا اجرا نہیں ہوسکا۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ڈائریکٹر فنانس کو پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے وظائف کے اجرا کی تمام تفصیلات پر مشتمل فائل فراہم کی گئی لیکن وہ فائل ڈائٹریکٹر فنانس کے دفتر سے ’غائب‘ کردی گئی۔
دوسری جانب شعبہ ایس ایف اے او سے وابستہ ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈائریکٹر فنانس کے آفس سے غائب ہونے والی فائل کسی گیم پلان کا حصہ ہے کیونکہ وظائف کی ادائیگی کے تمام امور اسٹوڈنٹ فنانس ایڈ آفس نگرانی کرتا رہا لیکن ڈیڑھ سال قبل جوائنٹ سیکریٹری کا استحقاق واپس لینے کے بعد اب وہ کسٹوڈین نہیں رہا، جس کے بعد امکان پیدا ہوگیا کہ وظائف کی رقم خرد برد بھی ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے وظائف کی رقم ایک غیر سرکاری عطیہ کار نے فراہم کی جو کم و بیش 70 سے 80 لاکھ روپے پر مشتمل تھی جس کا حکومت سندھ یا ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے کوئی تعلق نہ تھا اور رقم براہ راست جامعہ کراچی کو پوسٹ گریجویٹس طلبہ کے وظائف کے لیے فراہم کی گئی تھی۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ میں مجموعی طور پر 80 لاکھ 16 ہزار روپے وظائف کی صورت میں ملنے تھے، جس میں 45 لاکھ 80 روپے ادا کردیے گئے لیکن 34 لاکھ 36 ہزار روپے کی ادائیگی کے بارے میں ڈائریکٹر فنانس طارق کلیم وضاحت نہیں کرسکے۔
اس سارے معاملے پر ڈائریکٹر فنانس طارق کلیم کے پرسنل اسسٹنٹ نے محفوظ علی نے بتایا کہ طارق کلیم نے کسی بھی معاملے پر بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
