پیپلزپارٹی کبھی بھی ایم کیوایم پاکستان کو اہم ترین عہدے نہیں دے گی یہ بات بیوقوف بنانے والے بھی جانتے ہیں اور بننے والے بھی جانتے ہیں
ایم کیوایم پاکستان کو بلدیہ شرقی سمیت دیگر ڈی ایم سیز میں 40دن کی ایڈمنسٹرزشب ملتی ہیں تو یکدم بدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہوجائے گا
ایم کیوایم پاکستان کو سیاسی آزادی حاصل نہیں ،حکومت میں رہنے کا جواز اور ظلم سہنے کے یہ انداز نہ جانے کس کے لیئے فائدہ مند ہوسکتے ہیں
پیپلزپارٹی کھبی بھی ایم کیوایم پاکستان کو اہم ترین عہدے نہیں دے گی یہ بات بیوقوف بنانے والے بھی جانتے ہیں اور بننے والے بھی جانتے ہیں شہرقائد کی سیاست میں بیوقوف بنانے اور بننے کا سلسلہ جاری ایم کیوایم پاکستان اور پیپلزپارٹی کے درمیان مفاہمت نماجنگ اہلیان کراچی اور بلدیاتی اداروں میں افسران وملازمین کے لئیے مستقبل کا ناسور بن گئی

دونوں کے درمیان ہونے والی لفاظیاں سب دکھاوا ثابت ہونے لگی ہیں آخری لولی پاپ ایدمنسٹریٹر کراچی کے لئیے ایم کیوایم پاکستان کے منتخب کردہ عبدالوسیم کو ہری جھنڈی دکھاناتھا اندرونی سیاسی حالات (کھا کرتیر جودیکھا کمین گاہ کی طرف اپنے لوگوں سے ملاقات ہوگئی )کی عکاسی کرتی نظرآرہی ہے
مسلسل لولی پاپ کا اسٹاک جمع کرنے والی ایم کیوایم پاکستان نے پہلے ساڑھے تین سال تک یہ دانستہ غلطیاں کیں اور پھر پی ڈی ایم کا حصہ بننے کے بعد بھی اسٹک جمع کرنے کا سلسلہ نہ ہوا اور سینٹ حمایت کے بدلے پیپلزپارٹی نے آخری لولی پاپ دے دیکر یہ بتادیا کہ ایم کیوایم پاکستان کی پوزیشن ماضی کے مقابلے میں اب بہت زیادہ (مضبوط)ہے واقعی آصف زرداری کا ویژن اپنی جماعت کے لئیے کسی ماہرکھلاڑی سے کم نہیں ہے جبکہ سامنے نظریاتی رہنمائوں کی ایک لمبی فرسہت تو ہے لیکن یہ فہرست اعلی ترین تصینف کا حصہ نہیں ہے وجوہات قصہ پارنیہ قصہ مستقبل بن کر سامنے آرہاہے
مزید وزراتوں ،مشیروں کے بجائے حکومت سے فوری باہر آنے سے صورتحال مشکل ہوگی لیکن مستقبل میں کہیں نہ کہیں راستہ ضرور کھل جائے گا وزیربلدیات سیدناصرحسین شاہ کے واضع بیان کے بعد کہ جس میں وہ صحافی کو یہ جواب دے رہے ہیں یہ سرکار کا ایڈمنسٹریٹر کراچی ہے ایم کیوایم پاکستان نے تو کسی (وسیم)صاحب کا نام دیا تھا
یہ تو دونوں طرف کا ہی کھیل محسوس ہورہا ہے چالیس دن چاندنی اور پھر اندحیری رات اطلاعات یہی ہیں کہ اگر ایم کیوایم پاکستان کو بلدیہ شرقی سمیت دیگر ڈی ایم سیز میں 40دن کی ایڈمنسٹرزشب ملتی ہیں (جسکے آثارکم ہیں ) تو یکدم بلد یاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہوجائے گا
اور اگر ایم کیوایم پاکستان اہلیان کراچی کے مفادات کو مدنظرنظررکھتی ہے تو انکو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی ہوگی سندھ میں پیپلز پارٹی یا پی ڈی ایم سے اتحاد کرنے سے پہلے ایم کیوایم پاکستان نے افسانوی تحریری معاہدہ کیا تھا جس میں شہباز شریف سمیت مولانا فضل الرحمن سمیت دیگرایم سیاسی رہنما ضمانتی ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کو لولی پاپ مل رہے ہیں
اور آثار یہی نظر آرہے ہیں کہ ایم کیواایم پاکستان کا مسلسل سندھ حکومت پر اعتماد بے وجہ نہیں ہے کچھ توہے جس کی دہ داری ہے گزشتہ دنوں ایم کیوایم پاکستان کے رہنما سابق میئر کراچی واسیم اختر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ کہا تھا
کہ ایم کیو ایم وہ سیاسی آزادی آج بھی حاصل نہیں جو دیگر جماعتوں کو حاصل ہے ہمیں خواتین کنونشن کا پرچار کرنے پر آج بھی ہمارے پرچم اتارے جارہے ہیں جبکہ ہماری جدوجہد شہری سندھ کے حقوق کی جدوجہد ہے ساری بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاہدات پر دستخط کرنے کے باوجود آج بھی کراچی کے حقوق کی جنگ جاری ہے
ہم مشکلات اٹھا چکے ہیں اور آج بھی اٹھا رہے ہیں زیادتیاں آج بھی جاری ہیں دشمن نہیں چاہتا کہ ایم کیو ایم پنپے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم بھی چاہتی تو شہر میں سیاسی ایڈمنسٹریٹر لگوا سکتی تھی لیکن پارٹی نے بہتر یہ سمجھا کہ قانون کے مطابق ایک سرکاری افسر کو ایڈمنسٹریٹر لگوایا جائے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کو سیاسی آزادی حاصل نہ ہونے کے باوجود حکومت میں بیٹھے رہنے کا جواز اورظلم سہنے کے یہ انداز نہ جانے کس کے لیئے فائدہ مند ہوسکتے ہیں ایم کیوایم اپنی بقا کی جنگ ضرور لڑے لیکن یہ دیکھ کر بھی لڑے کہ سامنے محاذآرائی کس کے ساتھ کی جارہی ہے صورتحال کا ادارک وقت سے پہلے ہوجائے تو سیاسی دانش کسی مقام پر پہونچ جائے گی
