Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
سول اسپتال کراچی میں بچوں کے سرجری کمپلیکس کا افتتاح | زرائع نیوز

سول اسپتال کراچی میں بچوں کے سرجری کمپلیکس کا افتتاح

کراچی: وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ چین میں پھیل رہا ہے، امید ہے کہ یہ وائرس اتنا خطرناک نہیں ہوگا۔ہوائی اڈوں پر مسافروں کی اسکریننگ بڑھادی ہے، ٹیسٹ کئے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے طبی مراکز میں 44 کروڑ 60 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے، بڑے اسپتالوں کو نئے سال میں سسٹم میں شامل کیا جائے گا، 19 لاکھ سے زائد پی سی آر ٹیسٹ کیے گئے ہیں، اب تک صوبے میں 582 ہلاکتیں کورونا کے باعث ہوئی ہیں، 12سال سے زائد عمر کے افراد کو 100 فیصد ویکسین لگائی گئی، 5 سے 11 سال کی 76 فیصدآبادی کو کورونا ویکسین لگائی گئی۔

یہ با ت انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے 1996 کے پاس آؤٹ طلباء کی جانب سے سول اسپتال میں پیڈیاٹرک سرجری اوٹی کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

حکومت سندھ سول اسپتال کراچی میں نئے قائم ہونے والے بچوں کے سرجری کمپلیکس کے اخراجات برداشت کرے گی جبکہ سول اسپتال کراچی کے علاوہ بھی بچوں کے سرجری اوٹی کمپلیکس بنانے کا منصوبہ زیر غور ہے. اس موقع پر وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر محمد سعید قریشی،فیصل ایدھی، پرو وائس چانسلر پروفیسر نصرت شاہ، سول اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر روبینہ بشیر،پروفیسر ساجدہ قریشی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر عذرا پیچو کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت ڈاؤ میڈیکل کالج کے مختلف ادوار کے سابق طلبا کی جانب سے عطیہ کیے گئے یونٹس کی تمام ضرورتیں پوری کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں 2 سال سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، 70 لاکھ لوگ سندھ میں سیلاب سے متاثر ہوئے، سیلاب میں 17 لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے قواعد کے مطابق لیڈی ہیلتھ ورکرز کو تربیت دی گئی ہے، 50 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین کو طبی امداد دی گئی، 50 بستروں کا ٹراما سینٹر لاڑکانہ میں قائم کیا گیا ہے، 100 بستروں کا اسپتال سہون میں اسپتال قائم کیا گیا، سکھر میں روبوٹک سرجری ایس آئی یو ٹی چلارہا ہے جبکہ جامشورو میں 2 سو بستروں پر مشتمل اسپتال بنایا جائے گا۔

اس وقت 230 ایمبولینس ریسکیو 1122 پر کام کر رہی ہیں،مزید 150 ایمبولینسز لارہے ہیں، موبائل لیب اور موبائل میڈیکل یونٹ بنارہے ہیں، سول اسپتال میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین مشین کے لیے ایل سی کا مسئلہ ہے، ادویات کی خریداری کے لیےڈریپ کو نئے ریٹ نکالنے ہیں، ریٹ کی وجہ سے ٹینڈر میں تاخیر ہو رہی ہے۔