Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ڈکیتیاں،لوٹ مار،قتل،ریپ،کراچی کیلئے 2022 ء بھیانک سال ثابت ! | زرائع نیوز

ڈکیتیاں،لوٹ مار،قتل،ریپ،کراچی کیلئے 2022 ء بھیانک سال ثابت !

کراچی : نوجوانوں کی ہلاکت،عورتوں کے ریپ،معصوم بچوں کے قتل جیسے گھناؤنے جرائم اور واقعات کراچی کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہیں جہاں سال 2022 کے دوران خواتین کے ساتھ واقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور 500 سے زائد خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔

جب ملک میں شرم ناک اور انسانیت سوز واقعات کی بات کی جائے تو سال 2022 کراچی کے لیے انتہائی دردناک اور لرزہ خیز ثابت ہوا، گزشتہ 12 ماہ کے دوران 500 سے زائد خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔یہ حیران کن اعدادوشمار کراچی کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں کے میڈیکو لیگل آفیسرز کی جانب سے مرتب کئے گئے، ان تین اسپتالوں میں جناح اسپتال،سول اسپتال اور عباسی شہید اسپتال شامل ہیں۔

پولیس سرجن افسران کی جانب سے مرتب کردہ اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ کراچی میں ریپ اور قتل کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اس کے علاوہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر شہریوں کو قتل کرنے کے واقعات میں بھی کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سُمیہ سید نے بتایا کہ513 خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 3 ہزار 649 خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بنیں ہیں جنہیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا۔ریپ کیسز کے سرکاری اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ملیحہ ضیا لاری کا خیال ہے کہ اصل اعداد و شمار رپورٹ کردہ اعدادوشمار سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔

حالیہ سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ صنفی بنیادوں پر کیے جانے والے تشدد کے مقدمات کی سماعت کے لیے عدالتوں میں سزا کا تناسب صرف 11 فیصد ہے، سندھ میں صرف 14 فیصد لوگ ان عدالتوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ ڈکیتی مزاحمت سمیت مختلف واقعات میں تقریبا ایک ہزار 291 افراد قتل ہوئے جنہیں کراچی کے تین بڑے اسپتالوں میں لایا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اہل خانہ عام طور پر مقتول کا پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور قانونی و طبی کارروائی کے بغیر لاش لے جانے کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے پوسٹ مارٹم کی کل تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر واقع ہونے والی اموات کے اعداد و شمار گمراہ کن ہیں۔

تین بڑے اسپتالوں کی جانب سے جاری اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس سرجن نے بتایا کہ 29 دسمبر 2022ءتک جناح اسپتال میں 12 ہزار 511 مختلف طبی و قانونی معائنے کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ان میں سے خواتین کےریپ کے 267 کیسز اور ایک ہزار 938 گھریلو تشدد کے کیسز بھی رپورٹ ہوئے، اس کے علاوہ 540 لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لایا گیا۔

گزشتہ سال کل 10 ہزار 951 میڈیکو لیگل کیسز عباسی شہید اسپتال میں رپورٹ ہوئے ۔اس کے علاوہ عباسی شہید اسپتال میں رواں سال 29 دسمبر تک خواتین کے ساتھ جنسی استحصال کے 145 کیسز اور گھریلو تشدد کے ایک ہزار 318 کیسز رپورٹ ہوئے۔اسی اسپتال میں 554 لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے لایا گیا۔

سول اسپتال کراچی میں 6 ہزار 787 میڈیکو لیگل کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 101 کیسزخواتین کے ریپ اور 393 کیسز گھریلو تشدد کے واقعات تھے۔

اس کے علاوہ کل 197 لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لایا گیا جبکہ 10 لاشیں متعلقہ عدالتوں کی ہدایات/حکم پر لائی گئی تھیں۔ڈاکٹر سمعیہ سید نے مزید بتایا کہ ٹریفک حادثات میں یہ صورتحال بہت عام ہے کہ ورثا ڈاکٹرز کو لاش کا پوسٹ مارٹم یا قانونی تقاضے پورے نہیں کرنے دیتے۔

سال2022 میں میرے پاس ایسے کئی کیسز آئے جس میں لڑکیاں شادی کے 3 یا 6 ماہ بعد خودکشی کرلیتی ہیں ان میں 8 قتل کے واقعات تھے۔