“اصل مسئلہ الطاف حسین کو مائنس کرنے کا نہیں تھا بلکہ — فاروق ستار

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ اور موجودہ رہنما فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے 23 اگست کے فیصلے پر سزا دی جارہی ہے، “اصل مسئلہ الطاف حسین کو مائنس کرنے کا نہیں تھا بلکہ پارٹی ختم کرنے کا تھا جس کے نتائج آنا شروع ہوگئے

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی کے اندرونی جھگڑوں پر فیصلے دینے کا اختیار نہیں ،یہ فیصلہ بھی مولوی تمیز الدین خان کیس میں جسٹس منیر کے سیاہ فیصلے کی طرح یاد رکھا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر منصفانہ ،غیر آئینی اور غیر قانونی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پوری دال ہی کالی لگ رہی ہے ،یہ فیصلہ مینج ہوا ہے ۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کے اندرونی جھگڑوں پر آج تک کوئی فیصلہ نہیں دیا ،جب جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن گئے تو انہیں کہا گیا یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اور جب تحریک انصاف نے اکبر ایس بابر کو جنرل سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا یا گیا تو وہ بھی الیکشن کمیشن گئے لیکن انہیں بھی یہ ہی جواب ملا کہ یہ ہمارا کام نہیں ،عدالت سے رجوع کریں ۔

بہادرآباد یا پی آئی بی؟ پتنگ کی ڈور کس کے ہاتھ آئی؟ الیکشن کمیشن کا فیصلہ جاری

فاروق ستار نے کہا کہ مجھے23اگست کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے سامنے کھڑے ہونے کی سزادی گئی ہے ،مجھے آئین پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ الطاف حسین کو مائنس کرنے کا نہیں بلکہ پارٹی کو مائنس کرنے کا تھا،میں نے پارٹی کو بچا لیا اس لیے مجھے سزا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی سازش ہے جس کے بعد تحریک انصاف ،ایم ایم اے اور پی ایس پی کو ووٹ مل جائیں گے ۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فاروق ستار کو ایم کیو ایم کی قیادت سے ہٹانے کا آئینی فیصلہ جاری کیا ہے۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: