جعلی پولیس مقابلہ، نقیب اللہ کا قریبی دوست اور عینی شاہد قتل

کراچی: پولیس کے جعلی مقابلے میں مارے جانے والے قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے قریبی دوست اور اغواء کے عینی شاہد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قائد آباد کے علاقے گلشن بونیر حسن گراﺅنڈ کے قریب کار سے ایک شخص کی خون میں لت پت لاش ملی ،پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کوضابطے کی کارروائی کےلئے جناح ہسپتال پہنچادیا ۔

ایس ایچ او محمد علی مروت نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 40سالہ امان اللہ عرف مینل ولد گل ریز کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق محسود قبیلے سے اور وہ ٹویوٹا کرولا کار میں سوار تھا جبکہ گاڑی کے اندرسے نائن ایم ایم پستول کی گولی کا ایک خول ملا ہے۔

تم قتل کروہو کہ کرامت کروہو— عمیر دبیر

امان اللہ عرف مینل کو عقب سے سیدھے ہاتھ کے کان کے قریب انتہائی قریب سے گولی ماری گئی تھی جو دوسری جانب کنپٹی کے قریب سے باہرنکل گئی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ مقتول قائدآباد کے علاقے ظفرٹاﺅن کارہائشی تھا۔

ایس ایچ اوکا کہنا تھا کہ اس بات کاشبہ ہے کہ مقتول کو کار کے اندر ہی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے کسی شخص نے انتہائی قریب سے گولی ماری، نوجوان ڈمپروںکا مالک تھا،اہلخانہ نے نامزد ملزمان کےخلاف مقدمہ درج کروانے کی درخواست دے دی۔

راؤ انوار عدالت میں پیش، سپریم کورٹ میں‌ سماعت پر کیا ہوا؟‌ چیف جسٹس نے کیا کہا؟

دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے نقیب اللہ قتل کیس کی تفتیش کرنے والے اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دیتے ہوئے سندھ حکومت کو نئے قوانین بنانے کی ہدایت بھی دے دی۔

راؤ انوار کی گرفتاری کے اگلے روز ہی عدالتِ عالیہ سے پولیس قوانین میں ترمیم سے لوگوں کے خدشات مزید پڑھ گئے ہیں۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: