کراچی:پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا کہ الیکشن کرائیں الیکشن کمیشن ہماری درخواست پر پندرہ جنوری کو الیکشن کا اعلان کیا شیڈول جارئ ہونے کے بعد نو دسمبر کو ایک حلف یافتہ کو انہوں نے ایڈمنسٹریٹر لگادیا.
ان کا کہناتھاکہ حلف یافتہ آپ سمجھتے ہیں ، ہے تو وہ ڈی ایم جی مگر وہاں بھی حلف یافتہ ہوتے ہیں کورنگی اور دئگر اضلاع میں بھی حلف یافتہ لوگوں کو لگادیا ایسے لوگ جو قانون نافذ کرنے والوں کی لسٹ میں ہیں اگر ایسے لوگوں کو لگانا ہے تو عذیر بلوچ کا کئا قصور ہے اسے لیاری میں لگا دیں جیت جائیں گے۔
سندھ ہائی کورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا یہ الیکشن کمیشن نے ہماری درخواست پر کارروائی نہیں کئ اسلیے عدالت آنا پڑا روز دیکھتا ہوں ان کا کیا چل رہا ہے ، میں دعا کرتا ہوں خدا کا واسطہ جلدی سے مل جائو ہمیں سب یاد ہے کون کسے کیا کہتا تھا اور سب کو یاد ہے ۔
انہوں نے کہاکہ آپ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں پہلے سچ بولتے تھے یا اب حق مہر کتنا طے ہوا ہے، رشتے طے یو رہے ہیں کل ایک تصویر آئی ہے، جو ہمارے انٹرنشپ پر فارن منسٹر لاڑکانہ میں ایک اسکول میں سیلفی لے رہے ہیں ان معصوم بچوں کی شکلیں دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔
انہوں نے کہاکہ سندھ میں بہت برا حال ہے، اس کے باوجود تصویر لے کر شئر کر رہے یہ دنیا سے فنڈز لینے کے لئے کیا جا رہا ہے جب سیلاب نہیں تھا تو تب یہاں کون سا اسکول چل رہا تھا ہر سال چوہے اربوں روپے کی گندم کھا جاتے ہیں آٹھ لاکھ ٹن گندم چوہے کھا گئے۔
ان کاکہنا تھاکہ اس سال 200 ڈالر ٹن کی گندم تھی ڈیڈھ ارب کی گندم کھا گئے اور آئی ایم ایف سے امداد لینے چلے گئے سیلاب آیا پھر کہہ رہے گندم ضائع ہو گئی پوری دنیا نے کہا تھا زیادہ بارشیں ہوں گی۔
