حیدرآباد : حیدرآباد کے سرد موسم میں دو روزہ صوفی میلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ میلے کے دوسرے اور آخری روز ”صوفی رویہ اور جدید سائنس” کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
مقررین نے کہا کہ صوفی رویہ مطالعہ سے نہیں بلکہ اپنانے سے پیدا ہوتا ہے،صوفی کی سوچ ہم آہنگ ہے اوراسی سوچ سے معاشرے میں امن اوررواداری پیدا کی جا سکتی ہے۔
اس موقع پرشاہ لطیف یونیورسٹی کی وائس چانسلرڈاکٹر پروین منشی نے کہا کہ انسان کیوں پیدا ہوتا ہے اسکا جواب ہمیشہ خود ہی ڈھونڈتا ہے،نفس، روح اورشعورکو جاننے والے صوفی ہیں،جھوٹا اورمنافق کبھی صوفی نہیں ہوسکتا،صوفی طرزعمل سکھایا نہیں بلکہ تخلیق کیا جاتا ہے،ڈی آئی جی حیدرآباد پیرمحمد شاہ نے کہا کہ صوفی سوچ ناصرف لوگوں کے ساتھ بلکہ فطرت سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔
موجودہ حالات میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتا جارہا ہے،اس فکرکو ختم کرنے کیلئے تصوف کا نظریہ اپنانا ہوگا،سائنس علم نہیں بلکہ ایک طریقہ ہے،صوفی ایک نظریہ ہے۔
ڈی جی کلچرمنورمہیسر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ سندھی نوجوان پیر،میراورشیخ کے دامن پکڑیں جس سے انہیں کچھ حاصل نہ ہو،سندھ یونیورسٹی لاڑکانہ کیمپس کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹراظہرعلی شاہ نے کہا کہ تصوف سندھ کا خاص رنگ ہے،ڈاکٹرالطاف وسیم نے کہا کہ تصوف وہ سائنس ہے جوانسان کو انسان سے جوڑتی ہے،میلے کے آخری روزمختلف لوک فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اورشرکاء کوجھومنے پرمجبورکردیا جبکہ صوفیانہ کلام پیش کرنیوالوں نے محفل میں سماں باندھ دیا۔
