کراچی: بزنس مین گروپ کے چیئرمین ،سابق صدر کراچی چیمبر اور ٹڈاپ کے سربراہ زبیر موتی والا نے کہا ہے کہ اس وقت ملک انتہائی معاشی حالات سے گزر سے رہا ہے،ہمیشہ ملک ان حالات سے نکلتا رہا ہے،اس وقت پورٹ پر موجود مال پر کی قیمت سے زیادہ ڈیمریج لگ چکا ہے،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے مطالبہ ہے کہ فوری اسکے لئے اقدامات کئے جائیں۔
کراچی چیمبر میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی آمد اور بعد ازاں کراچی چیمبر کے عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔زبیر موتی والا کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کا سرکلر واضح نہیں ہے،آج کی تاریخ تک ایل سیز نہیں کھل رہی ہیں،ضرورت کی اشیاء پورٹ پر دو دو مہینے سے موجود ہیں ،ہم سمجھتے ہیں مشکل حالات ہیں ،مگر ہماری ڈیمانڈ ہے فوری پورٹ پر کھڑے کنٹینرز کو کلیئرنس دی جائے،ڈیمریج، شپنگ اور پورٹ چارجز سے شدید نقصان ہورہا ہے،ابھی تاجر کو واضح نہیں کہ کس ریٹ پر وہ امپورٹ کرے،اس وقت ہمارے خریدار ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے، آپ کیسے آرڈرز مکمل کرینگے،اس وقت پالیسی واضح نہیں، معاملات کیسے چلیں گے،اس وقت بینک 1500 ڈالر کی ایل سی بھی نہیں کررہے،بینک اس وقت پیسے نہیں دے رہا جس مسائل جنم لے رہے ہیں ،پچھلے سال ہم نے 24 فیصد ایکسپورٹ اضافی کی،اس سال ایکسپورٹ پچھلے سال کے مقابلے 9 تا10 فیصد کم ہوگی،ڈالر کی تین قیمتوں کی وجہ سے اس وقت مشکلات ہیں ،ڈالر کو اوپن کرنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہورہا ہے،ہم اس وقت بنگلہ دیش سے مقابلہ نہیں کرپارہے،بے اعتمادی کی فضا بن چکی ہے، حکومت کو اس ختم کرے،یا ہمارے فارمولے پر عمل کرلیں یا آپ کوئی فارمولا دے دیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
نفیسہ شاہ نے کراچی چیمبر میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزنس کمیونٹی ہمیشہ ملک کے لئے کھڑی رہی ہے،کراچی کی بزنس کمیونٹی کے مسائل ہیں جن کے لئے یہاں آئے ہیں،ہمارے فاریکس ریزرو انتہائی کم رہ گئے ہیں،اس سب کے لئے آپ سیاسی ڈھانچے کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے،اگر تمام فیصلے منتخب نمائندے کرتے تو ملک کے حالات مختلف ہوتے،فیڈریشن اور چیمبر دونوں جگہ سے ہمیں تجاویز ملی ہیں،پارلیمینٹ کے ممبر کی حیثیت سے ان تجاویز کو آگے رکھیں گے۔
فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ اس وقت پارلیمنٹری بزنس میں ریفارمرز کی ضرورت ہے،ہم بحیثیت کمیٹی کام کرتے ہیں جبکہ یگزیکٹیو فیصلے کرتے ہیں ،ہم یہاں اپنا کردار ادا کرنے آئے ہیں،ہمیں آپ کے تمام تر مسائل کا اور فارمولے آگے رکھنے ہیں،ڈیٹنشن چارجز نے اس وقت تباہی لگادی ہے،دالیں اور خوردنی تیل امپورٹ ہوتے ہیں،پالیسی کا مسلہ ہے، ہمیں مستحکم پالیسی کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف قرضہ دیتے ہوئے دیکھتا ہے کہ قرضہ ملک پیسہ واپس کیسے دیگا ،اب غریب نہیں بلکہ مڈل کلاس بھی اس وقت کوئی بل نہیں بھرسکتا ہے،ڈالر کی اسمگلنگ فوری روکنی ہوگی ،جو بینکس بھی ڈالر کی ہیرا پھیرا میں ملوث ہیں، ان کے خلاف بھی سخت ایکشن پر اسٹیٹ بینک سے بات کرینگے۔
قائمہ کمیٹی کے سربراہ قیصر احمد شیخ کا کہنا تھا کہ حکومتیں صرف چند لوگوں کی باتیں سنتی ہیں،فنانس کمیٹی اپنی تجاویز سامنے رکھتی ہے،اسٹینڈنگ کمیٹی نے لوگوں کے مسائل حل کرنے ہوتے ہیں ،6 ماہ سے چیئرمین ہوں مگر کوئی ہم سے رابطہ نہیں کیاگیا،آج بھی خود ہم نے رابطہ کیا ہے،آپ ہم سے مسائل شیئر کریں، ہم مل کر آپ حل پر کام کرینگے،ہمارے ملک میں دستاویزی معیشت نہیں ہے،ہم سب اس میں شامل ہیں ،ہم اپنے مسائل حل کرنا ہی نہیں چاہتے،گورنر اسٹیٹ بینک سے پوچھا کے ساڑے تین ماہ بینکوں نے جو کمایا اس کا حساب دیں،ہم نے کہا ہمیں لگتا اسٹیٹ بینک بھی ملوث ہے ،تین بندے موجودہ حالات کے زمہ دار ہیں،اسحاق ڈار، چیئرمین ایف بی آر اور گورنر اسٹیٹ بینک موجودہ معاشی صورتحال کے ذمہ دار ہیں ،اسحاق ڈار کیوں ہم سب سے نہیں ملتے ،آج (جمعرات کو) کسٹم ہاائو س میں کنٹینرزکے حوالے سے ملاقات کے لئے جائینگے۔
