Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
خواجہ آصف تاحیات نااہل قرار، عدالت کا تفصیلی فیصلہ جاری | زرائع نیوز

خواجہ آصف تاحیات نااہل قرار، عدالت کا تفصیلی فیصلہ جاری

غیر قانونی اثاثے اور اقامہ کا الزام ثابت ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ آصف کو تاحیات نا اہل قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے دبئی کا اقامہ رکھنے پروزیر خارجہ خواجہ آصف کو نا اہل قرار دیا۔

عدالت نے خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نا اہل قرار دیا اور فیصلے میں کہا کہ خواجہ آصف قومی اسمبلی کی رکنیت کیلئے نا اہل نہیں ہیں، خواجہ آصف صادق اور امین بھی نہیں رہے۔

واضح رہے کہ خواجہ آصف کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دیا گیا ہے اور کچھ روز پہلے ہی اس آرٹیکل کی سپریم کورٹ نے تشریح کی تھی جس کے تحت اس آرٹیکل کے تحت نااہل ہونے والا شخص تا حیات نا اہل قرار پاتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 10 اگست 2017 کو عمران خان کی ہدایت پر خواجہ آصف سے 2013 کے عام انتخابات میں شکست کھانے والے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نا اہلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ خواجہ آصف کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، انہوں نے اقامہ کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائیں اوراہم سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے غیر ملکی کمپنی میں ملازمت کرتے رہے۔

گزشتہ سال 18 ستمبر کو جسٹس عامر فاروق نے خواجہ آصف نا اہلی کا معاملہ لارجر بینچ کو بھیج دیا جبکہ 23 ستمبر کو جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل پایا۔ 24 نومبر 2017 کو خواجہ آصف نے اقامہ تسلیم کیا اور کہا کہ انہوں نے اقامہ ذاتی حیثیت میں حاصل کیا، درخواست گزار کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رواں برس 8 مارچ کو میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی جس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 27 مارچ کو نیا بینچ تشکیل دیا گیا جس نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا اور فریقین کو ہدایت کی کہ اگر وہ مزید دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں تو کراسکتے ہیں۔

عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد 16 اپریل کو خواجہ آصف نا اہلی کیس میں یو اے ای کے خط کی انٹری ہوئی۔ وزیر خارجہ کے وکیل نے انٹرنیشنل میکینکل اینڈ الیکٹریکل کمپنی کا خط جمع کرایا جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کے مو¿کل جس کمپنی کے لیگل ایڈوائزر ہیں اس کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوکر بیان دینے کے لیے تیار ہے۔خط میں یہ کہا گیا کہ خواجہ آصف کمپنی کے فل ٹائم نہیں بلکہ پارٹ ٹائم ملازم ہیں اور ان سے مشاورت ان کے دبئی کے دورہ کے دوران یا ٹیلی فون پر کرلی جاتی ہے۔