Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
میئر کراچی کا انتخاب،ن لیگ پیپلزپارٹی کا بھرپورساتھ دے گی | زرائع نیوز

میئر کراچی کا انتخاب،ن لیگ پیپلزپارٹی کا بھرپورساتھ دے گی

کراچی: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون سندھ کی قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ دونوں جماعتیں وفاق کی طرح صوبہ کراچی کے مئیر کے انتخابات سمیت سندھ میں تمام ضمنی اور عام انتخابات میں حلیف کے طور پرحصہ لیں گی۔

مسلم لیگ نون مئیر کراچی کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کا بھرپور ساتھ دے گی۔مسلم لیگ نون سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی پی کے رہنما وصوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میئر کا عہدہ اصولی اور اخلاقی طور پر سب سے بڑی جماعت کا حق ہوتا ہے اور پیپلزپارٹی اس وقت کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہے،مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی وفاق میں اتحادی ہیں،دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر مئیر کراچی کے مقابلے میں جائینگے،ہم جماعت اسلامی کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں کیونکہ اس شہر کے عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم مل جل کر اس شہر کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ مئیر کے اختیارات آئین و قانون میں درج ہیں ہمیں کسی کو اپنی جیب سے نکال کر نہیں دینے ہیں ہے۔

قبل ازیں پی پی کا وفد سعید غنی کی قیادت میں شاہ محمد شاہ کی رہائش گاہ پہنچا۔ اہ محمد شاہ نے کہا کہ کراچی کی تعمیر اور ترقی سمیت دیگر سیاسی امور پر دونوں جماعتوں کا ایک ہی موقف ہے ، ہم مل جل کر کام کریئنگے اور مئیر کراچی کے لئے جو بھی امیدوار لائیں گے وہ میرٹ پر ہوگا،آنے والے ضمنی اور جنرل انتخابات میں بھی ہمارا اشتراک ہوگا۔

سعید غنی نے کہا کہ ابھی تک ہمارے پاس 96 جبکہ جماعت اسلامی کے پاس 82 نشستیں ہیں جبکہ 43 نشستیں پی ٹی آئی کو ملی ہیں اسی طرح نون لیگ کو 8، جے یو آئی کو 2 اور کچھ آزاد ارکان کو اس شہر کے عوام نے کامیاب بنایا ہے،ہماری پہلی ترجیح جماعت اسلامی کے ساتھ کام کرنا ہے،ہم ان کے اعتراضات دور کرنے ادارہ نورحق گئے تھے۔