کراچی: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) رواں سال کے آخر تک اپنے پورے نظام کو ڈیجیٹل کردیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی بہترین فارماسیوٹیکل طریقوں کے مطابق ملک میں نئی ادویات کی بغیر کسی پریشانی کے منظوری اور رجسٹریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بات ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم رؤف نے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے ساؤتھ زون کے زیر اہتمام ادویات بنانے والے اداروں سے ملاقات کے دوران کہی۔ عاصم رؤف نے فارمامینوفیکچررز کو بتایا کہ ڈریپ کی ڈیجیٹلائزیشن ملک کے فارماسیوٹیکل سیکٹر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید بنانے کی طرف ایک قدم آگے بڑھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹومیشن کو اس حد تک اپنایا جائے گا کہ ادویات بنانے والوں کو ملک میں دواسازی کی مصنوعات کے لیے ضروری منظوری حاصل کرنے کے لیے ایک بار بھی ڈریپ کے دفاتر کا دورہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاءکو بتایا کہ ڈریپ ملک سے ادویات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے جدید ترین بین الاقوامی معیار کے مطابق ادویات کی پیداوار کے پورے نظام کو جدید بنانے کے مقصد کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
انہوں نے ملک کے تمام ادویات ساز اداروں پر زور دیا کہ وہ ادویات کی جانچ کے نظام کو قائم کریں اور ادویات کی پیداوار کے بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے کے لیے مطلوبہ تعداد میں اہل انسانی وسائل کی خدمات حاصل کریں۔ سی ای او ڈریپ نے کہا کہ دہائیوں پرانے فرسودہ ادویات کے معائنہ کے نظام کو بتدریج ختم کیا جا رہا ہے اور اس کی جگہ فارما انڈسٹریز کے لیے رسک پر مبنی آڈیٹنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ ادویات تیار کرنے والوں کی عزت اور وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے ادویات کے بڑے پروڈیوسرز پر زور دیا جنہوں نے پہلے ہی ضروری بین الاقوامی منظوری حاصل کر رکھی ہے تاکہ وہ ملک میں دیگر ادویات بنانے والے اداروں کو پاکستان سے ادویات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے انہی عالمی معیارات پر پورا اترنے میں مدد کریں۔ انہوں نے شرکائ کو بتایا کہ ڈریپ نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ ملک میں ادویات کی پیداوار کے لیے خام مال اور طبی آلات کی درآمد کے لیے چینی کرنسی RMB میں ڈیل کرے۔
فارما مینوفیکچررز کو پاکستان سے ادویات کی برآمدات میں اضافے کے لیے رکاوٹوں کو دور کرنے کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے ہر چھ ماہ بعد ملاقات کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ادویہ سازی کی صنعت ادویات کی عالمی برآمدی منڈی پر قبضہ کرنے کے لیے دنیا کے کسی بھی حصے سے ادویات بنانے والوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہے۔
