کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سات روزہ پاکستان یوتھ فیسٹیول تمام تر رنگینوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، پاکستان یوتھ فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں وزیر ثقافت و تعلیم سردارعلی شاہ مہمانِ خصوصی تھے۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اوراراکین گورننگ باڈی نے خوش آمدید کیا۔فیسٹیول کی اختتامی تقریب کا افتتاح معروف جیمبروز بینڈ کی شاندارمیوزیکل پرفارمنس سے ہوا،پاکستان یوتھ فیسٹیول کی دس مختلف کیٹیگریز کے مقابلوں اور دو خصوصی مقابلوں میں جیتنے والے خوش نصیبوں کو نقد انعام اور ایوارڈز تقسیم کیے گئے، خصوصی بچوں کے لیے منعقد کیے جانے والے اسپیشل چلڈرن فیسٹیول میں حصہ لینے والوں خصوصی بچوں کو خصوصی ایوارڈز دیے گئے۔
پاکستان یوتھ فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے وزیر ثقافت و تعلیم سردار علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی 64 فی صد آبادی ںوجوانوں پر مشتمل ہے، اس آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے کوئی پالیسی نہیں بنائی، محمد احمد شاہ نے جو یوتھ فیسٹیول کا انعقاد کیا ہے اس یں ہمارے نواجون پرفارم کر رہے ہیں یہ ان کی حوصلہ افزائی ہے، اس ملک میں عدم برداشت اورانتہا پسندی کو کاونٹر کرنے کے لیے نوجوانوں کو تیار کرنا پڑے گا، ہمیں اس کمپلیکس سے نکلنا پڑے گا کہ کامیاب صرف ڈاکٹر، انجینئر اور افسر ہی نہیں ہوتے ہیں، کوئی نصرت فتح علی خان، عاطف اسلم اور حدیقہ کیانی بھی ہو سکتے ہیں، ہمارے ہاں بچوں سے پوچھا ہی نہیں جاتا کہ اس کو مستقبل میں کیا بننا ہے، ہم سب خود پی نظر ڈالیں تو ہم سب حادثہ ہیں،بننا کیا چاہتے تھے بن کیا گئے، ہماری انڈس ویلی کی تہذیب سے کلاءکے رقص کے نشان ملے ہیں، اسی تناظر میں محکمہ تعلیم نے ساڑھے سات سو میوزک ٹیچرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہمیں بچوں کو وہ پاکستان دینا ہے جو احمد شاہ نے آرٹس کونسل میں کلچر کا گڑھ بنا رکھا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں مجھے کہیں ایسا کوئی ادارہ نظر نہیں آتا جو فنون لطیفہ اور ثقافت کے فروغ کے لیے اس طرح کام کر رہا ہو، وطن عزیر کی اصل شکل ہمیں بدلنی ہے، تمام نوجوانوں کو مبارکباد دیتا ہوں، اپنی نصابی سرگرمیوں کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں، انہوں نے کہاکہ فیسٹیول میں مڈل کلاس بچوں کی بڑی تعداد نظر آ رہی ہیں، احمد شاہ کو گرو گنٹال کہتا ہوں جو ایک جمہوری آمر ہیں، احمد شاہ ہماری رہنمائی کریں ہم سرکاری اسکول و کالجز میں ایسے مقابلے کرائیں۔
اختتامی تقریب سے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خصوصی بچوں کے اسپیشل فیسٹیول میں شامل تمام بچوں نے زبردست پرفارم کیا، یہ بچے ہم سے زیادہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، کمال کا گانا گاتے ہیں، کمال کے مصور ہیں، نگہت چوہدری نگہت چوہدری اور وہاب شاہ نے ڈانس فائنل میں بچوں کی حوصلہ افزائی کی، سولہ سال پہلے یوتھ فیسٹیول کا آغاز کیا تھا، ہماری پوری ٹیم نے بہت محنت کی ہے، آرٹس کونسل میں آپ سب نے پورا ہفتہ رونق لگائے رکھی ، اس انرجی سے آرٹس کونسل کے درو دیوار خوش ہیں، ہمارے ہاں روزگار کی کمی ہے جو لوگ افورڈ نہیں کر سکتے ان کے لیے آئی ٹی کی ٹریننگ کا آغاز بہت جلد کیا جائے گا، تم ہمت کرو دنیا تمہیں نہیں روک سکتی، اللہ کی ذات کے بعد خود پر بھروسہ کرنا ہے، دنیا تمہاری ہے، ٹھان لو کہ تمہیں کچھ کرنا ہے، ہماری یوتھ منافق نہیں ہے، اسکولز ،کالجز،اور جامعہ کراچی کے شکر گزار ہیں ، آپ سب کے تعاون کے بغیر یہ فیسٹیول ممکن نہیں تھا، مختلف کالجز میں آرٹ کی مختلف جہتوں پر مبنی مقابلے کرائیں گے، ہم نے سینکڑوں ٹرینرز ٹرین کیے ہیں، سب سے پہلے آپ کی تعلیم ہے، اپنا مستقبل بدلو گے تو گھر، گلی ، محلے ، شہر اور ملک کا مستقبل بدلے گا۔
پاکستان یوتھ فیسٹیول کے آخری روز کانسرٹ میں علی عظمت، ساحر علی بگا، احمد جہانزیب، نتاشا بیگ، وہاب بگٹی، احسن باری، ارمان رحیم اور آفاق عدنان نے اپنی آواز کا جادو جگاکر فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
