اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں حالیہ دہشت گردی کی لہر اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پر اراکین سینیٹ کے شدید تحفظات، سینٹ میں پشاور کی پولیس لائنز مسجد میں بم دھماکے پر بحث کے دوران پشاور سانحہ کو حکومتی ناکامی قرار دینے پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
حکومتی اراکین نے اپوزیشن کی پشاور سانحہ پر تنقید کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیاست چھوڑیں پشاور واقعے پر بات کریں۔حکومت کے اپنے ہی سینیٹرز ایوان میں اپنی بھڑاس نکالنے لگے۔
حکومتی سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی حکومت چھوڑ کر نئے الیکشن کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ منگل کو سینٹ کااجلاس چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا۔ پشاوربم دھماکے کے معاملے پر بحث کی گئی جس میں حصہ لیتے ہوئے سابق چیئر مین سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ دہشتگردوں کو مسجد ہی کیوں نظر آتی ہے ؟پارلیمانی کمیٹی سے اجازت نہیں بلکہ آگاہ کیا گیا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات جاری ہیں ،مطالبہ کرتا ہوں کہ پارلیمنٹری انکوائری کی جائے کہ پاکستانیوں کو اعتماد میں لئے بغیر ٹی ٹی پی کو بحالی کے لئے لایا گیا،مذاکرات کے عمل کو جرگے کو آئوٹ سورس کر دیا ،جرگے کی قانونی حیثیت کیا تھی ۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ میرا تمام سیاسی جماعتوں سے ایک بڑا گلہ ہے،دہشتگردی دن بدن بڑھ رہی ہے مگر سیاسی جماعتوں کو سیاست کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے،سب اسی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کہ الیکشن 90 روز میں ہوں گے کہ نہیں، تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قومی مذاکرات کریں۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ افغان پالیسی فیل ہو گئی یہ تسلیم کرنا چاہیے،ہماری نالائقی ہے کہ کائونٹر ٹیررازم پالیسی نہیں بن سکی،43 سال ہوگئے ہیں ہم حالت جنگ میں ہیں ،5 ارب ڈالر کا افغان جہاد لڑآ گیا،کلیئر افغان پالیسی بننی چاہیے اور اس کی بنیاد پر کائونٹر ٹیررازم پالیسی بنائی جائے،لولی لنگڑی حکومت سے بہتر ہے کہ حکومت چھوڑ کر الیکشن کروایا جائے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ اگر عمران خان دہشت گردی کے مسئلے پر ہمارے ساتھ بیٹھنے کا اعلان کریں تو اپنی جماعت کے لیڈروں کو منانا میری ذمہ داری ہے۔ بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ اے پی ایس واقعہ کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، ہماری افواج نے کامیاب آپریشن ضرب عضب، راہ حق اول اور راہ حق دوئم جیسے سنگ میل عبور کئے،ہم سب کو امن کے لئے قومی اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا چاہئے، انتخابات کی رٹ لگانا چھوڑ دیں، قومی سلامتی کے لئے متحد ہوں۔
سینیٹ میں وقفہ سولات کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمدخان نے اوگرا کو کرپٹ ادارہ قراردے دیا۔ مشتاق احمد نے کہا کہ اوگرا نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے پاکستانی عوام کو لوٹاملک کی سائبر سکیورٹی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے،ہمارے بنک، سرکاری ادارے اور سفارتخانے سب کی سائبر سکیورٹی غیر محفوظ ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے سائبر سکیورٹی کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔اجلاس جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
