اسلام آباد : عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطالبے پر ملک میں بجلی، سگریٹ، مشروبات، ایئر ٹکٹ سمیت دیگر اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کردیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرادی ہے، ریونیو بڑھانے کے لیے حکومتی اقدامات کے تحت سگریٹس، مشروبات اور فضائی ٹکٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے جس کے تحت سگریٹس پر 50 پیسے فی اسٹک ایکسائز ڈیوٹی اور انرجی ڈرنکس پر ٹیکس بڑھانے، بینکوں کی آمدن پر لیوی لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجموعی طور پر 300 ارب روپے کے لگ بھگ اضافی ریونیو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں اور جتنے اقدامات پر اتفاق ہوگا اس کے تحت ریونیو اقدامات شامل کیے جائیں گے۔
پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے، اس سلسلے میں ایف بی آر نے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس 2023ء کے ذریعے تقریباً 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات کی تجاویز سے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا ہے، اس کے علاوہ حکومت نے آئی ایم ایف کو ریونیو بڑھانے، گردشی قرضہ میں کمی اور معاشی و توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ توانائی کے استعمال اور مالی کفایت شعاری کے ذریعے اخراجات میں کمی کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
آئی ایم ایف نے سیلاب کے نقصانات، گردشی قرضے اور دیگر نقصانات کے باعث پانچ سے ساڑھے 500 ارب روپے کے اضافی ریونیو و نان ٹیکس ریونیو اقدامات کی تجویز دی ہے۔
