ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیئر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے پندرہ سالوں کے دوران شہر کو ایک قطرہ پانی نہیں دیا بلکہ الٹا ہمارے حصے کا پانی اربوں روپے میں فروخت کیا، اس چوری میں اراکین اسمبلی اور سرکاری افسران ملوث ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے جنرل ورکرز اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈھائی لاکھ نوکریاں تقسیم کیں مگر ایک نوکری اس شہر یا حیدرآباد کو نہیں دی، آج تک چالیس فیصد کوٹے پر انھوں نے عمل نہیں کیا، پیپلز پارٹی کی یہ قیادت اس کوٹے پر بھی جعلی ڈومیسائل بنا کر باہر سے لاکر نوکریوں پر قبضہ کررہے ہیں، ایک نیا کالج ،یونیورسٹی نہیں ہے، اس حکمراں جماعت کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس شہر کی آدھی آبادی کھا گئے، تین کروڑ کی آبادی کو آدھا کردیا گیا، ایک یوسی نوے ہزار ووٹوں پر ہے جہاں ہمارا ووٹر ہے، ایک یوسی گیارہ ہزار پر بنائی جو انکے حساب سے انکا ووٹ بنک ہے، جب الیکشن ہوتے ہیں تو پولیس انکی ،پرئیذائڈنگ افسر انکا ،بیکٹ پیپر خود لے کر ارہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ’سڑکوں پر بیٹھ کر تھاپے لگا رہے ہیں، کیا ہمارے آباؤ اجداد نے اس لیے یہ ملک بنایا تھا کہ تم ہمیں ہمارے حقوق نہ دو ،تم جینے کا حق چھین لو مگر اب فیصلہ کر لیا ہے ایسے نہیں جینا، اب فیصلہ ہوگا کہ ہمارے حقوق ملیں گے یا پھر اس ملک میں حکومت کا کاروبار نہیں چلے گا، ہم گولی نہیں چلانا چاہتے ،ہم شہر بند نہیں کرنا چاہتے، ہم امن پسند ہیں لیکن خاموشی سے مرنا بھی نہیں چاہتے، اب کوشش کرکے مریں گے، جب لوگ اقتدار کے لیے دھرنا دے سکتے ہیں تو کیا ایم کیو ایم اپنے حقوق کے لیے کیا دھرنا نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کارکنان کو مخاطب کرکے پوچھا کیا دھرنے کیلیے تیار ہو کیونکہ یہ غیر معینہ مدت کا بھی ہوسکتا ہے، شہر کے حقوق کے لیے کتنے دن بیٹھنا پڑے اس کا معلوم نہیں ہے، جس پر پنڈال میں موجود کارکنان نے ’جینا ہوگا مرنا ہوگا، دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا‘ کے نعرے لگائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ’کارکنان سوچ لیں ، ہار آپشن نہیں، ہمیں دھرنا جیتنے کے لیے دینا ہے، ہر کارکن دس دس بندے دھرنے میں لے کر آئے گا، کوئی گولی نہیں چلے گی ،لاش نہیں گرے گی نہ ہی بس جلے گی، ہم نے امن سے اپنی بات کرنی ہے، دھرنا کب تک چلے گا نہیں پتہ ،بس تیاری کرو۔ چوبیس چوبیس گھنٹے بیٹھنا ہے‘۔
