مردم شماری والے چکر لگاتے رہے، نورین کے دورانِ تفتیش تہلکہ خیزانکشافات

لاہور (روز نامہ اوصاف) پنجاب سوسائٹی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران گرفتار کی جانے والی خاتون دہشتگرد ڈاکٹر نورین لغاری نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔

نورین نے پولیس کو دئے گئے بیان میں بتایا کہ میرا رابطہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر دہشت گرد محمد علی سے ہوا۔جس کے بعد میرا نکاح محمد علی سے اڑھائی ماہ قبل اسی گھر میں آنے کے بعد ہوا۔

نورین نے بتایا کہ دہشت گرد محمد علی’’ دولت اسلامیہ‘‘ لاہور ڈویژ ن کا عسکری مسؤل تھا۔ محمد علی کا ایک دوسرا ساتھی بھی تھا جو اس کے گھر کے چکر لگاتا تھا ، دراصل وہ اُن کا امیر تھا۔

 ذرا ئع نے بتایا کہ پنجاب سوسائٹی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی رات ان کا امیر گھر پر موجود نہیں تھا۔ گھر کی دیکھ بھال کے لیے گھر میں موجود شخص گاڑی پر آتا جاتا تھ۔سکیورٹی فورسز کے چھاپے کے دن بھی صبح کے وقت یہ شخص گھر میں ناشتہ بھی لایا تھا۔

نورین لغاری نے مزید بتایا کہ مردم شماری کے دوران گھر پر تالہ لگا ہوا تھا۔ تین روز تک مردم شماری کی ٹیمیں گھرکے چکر لگاتی رہیں مگر تالہ لگا دیکھتی رہیں جس کے بعد ٹیم نے گھر کو خالی لکھ دیا تھا۔ گھر میں ہونے والی مشکوک حرکات اور سرگرمیوں کی اطلاع اہل محلہ نے فیکٹری ایریا تھا نہ میں دی تھی۔

اہل محلہ کو مشکوک سرگرمیوں کا علم تب ہوا جب انہوں نے دہشت گرد محمد علی کوتالہ لگے گھر کی دیوار پھلانگ کر باہر جاتے دیکھا ۔محمد علی کو حساس اداروں نے گھر کے قریب موجود ایک بیکری پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے شناخت کیا جہاں وہ روز مرہ کی اشیاء خریدنے جاتا تھا۔

دوسری جانب نورین کے بھائی افضل لغاری نے بھی اپنی بہن کے پولیس حراست میں ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔افضل نے بتایا کہ اس کی بہن 10 فروری 2017ء کو گھر سے لا پتہ ہوئی۔ جس پراہل خانہ نے پولیس کو نورین کی گمشدگی کی اطلاع بھی دی۔

پولیس نے تحقیقات کر کے گمشدگی کے 6 روز بعد اہل خانہ کو آگاہ کیا کہ ان کی بیٹی نورین لغاری نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ لیکن نورین کے اہل خانہ نے پولیس کی اس بات کو مسترد کرتے ہوئے یہ سب ماننے سے انکار کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: