وزیرستان: خیبرپختونخواہ کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں خاڑ چمڑ چیک پوسٹ پر سیکیورٹی فورسز اور پی ٹی ایم کارکنان کے درمیان جھگڑے کی اطلاعات سامنے آئیں جس کے بعد پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کی قیادت میں شرپسندوں نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور گرفتار دہشت گردوں کو رہا کرانے کی کوشش کی۔
چیک پوسٹ پر تعینات فوجی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 موقع پر جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد زخمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں تاہم تازہ اطلاع کے مطابق اب تک 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔
آصف غفور کے مطابق چیک پوسٹ پر کی گئی فائرنگ سے پانچ اہلکار زخمی ہوئے جن کو پشاور منتقل کر دیا گیا جبکہ علی وزیرسمیت 8 افرد کو گرفتار کیا اور محسن داوڑ رش کا فائدہ اٹھا کر جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے جبکہ وہ اب تک چھپتے پھر رہے ہیں۔
https://twitter.com/AnwarLodhi/status/1132649968014123008
مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ میران شاہ کے قریب دتہ خیل میں دھرنے پر بیٹھے قبائلی افراد کے مظاہرے پر چیک پوسٹ سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے بعد تلخ کلامی بھی ہوئی اور صورتحال سنگین ہوگئی۔ شمالی وزیرستان میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں جبکہ کرفیو بھی نافذ کردیا گیا۔
جتنی آزادی دینی تھی دے دی، پی ٹی ایم سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں، آصف غفور کی وارننگ
بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے وزیرستان میں ہونے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ پاکستان کے کسی بھی بڑے سیاستدان نے اس معاملے پر خاموشی سادھے رکھی۔
مزیداری کی بات یہ بھی ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر آج پاکستان میں وزیرستان تنازع سے متعلق ہی ٹرینڈز چل رہے ہیں، جن میں سے بیشتر پاک فوج کی حمایت جبکہ دو پی ٹی ایم پر حملے کی مخالف میں ہیں۔

