کیانی اور پاشا میری تائید کرتے تھے، زرداری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق صدر وچیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بلاول بھٹو کی جان کی فکر ہے۔ټوہ بلاول کو گاڑی سے باہر نکلنے سے روکتے ہیں لیکن وہ باز نہیں آتے۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو ٹف ٹائم دیں گے حکومت سے مذاکرات کا اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب کچھ اور ہی ہو گا ۔حکومت جتنے دوستوں کو اٹھانا چاہتی اُٹھا لے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چودھری نثار کیخلاف ایف آئی آر کٹوانے کا اعلان بھی کیا ۔

تفصیلات کےمطابق سابق صدر آصف زرداری نے ن لیگ کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات سے انکار کر دیا ۔ بولے کہ اب مذاکرات کا وقت گزر گیا بلکہ اب تو کچھ اور ہی ہو گا ۔ پیپلزپارٹی حکومت کو ٹف ٹائم دے گی۔آصف زرداری نے کہا کہ وہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو گاڑی سے باہر نکلنے سے روکتے ہیں لیکن وہ یہ بات نظرانداز کردیتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بی بی شہید کی طرح ان کی جان کو بھی خطرہ ہے اورمجھے ہر وقت ان کی جان کا دھڑکا لگا رہتا ہے ۔ انہیں منع کرنے کے باوجود وہ باز نہیں آتے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ اُن کے جتنے مرضی دوستوں کو اٹھا لیا جائے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ جانتے ہیں کہ اُن کے ساتھیوں کو وفاقی حکومت اغوا کرا رہی ہے ۔اسی لئے تو چودھری نثار کے خلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے۔ سابق صدر آصف زرداری نے اے ڈی خواجہ کی تقرری کو پری پول رگنگ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کی تعیناتی صوبائی حکومت کا حق ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ میں نے اپنے دور صدارت میں سب کو اعتماد میں رکھا، کیانی اور پاشا میرے مؤقف کی تائید کرتے تھے اور ہمارے دور میں اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات کچھ اور تھیں مگر میاں صاحب کے دور میں سویلین کو لاپتہ کردیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: