تین “م” اور کراچی کی ابتر صورتحال ، عمیر دبیر

کراچی: بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور میئر کراچی کے مابین ترقیاتی معاہدے کے بعد کراچی کی حالت زار بد سے بدتر کیوں ہوتی جارہی ہے اور اس سازش کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں۔

ملک ریاض پاکستان کی اُن طاقت ور شخصیات میں تصور کیے جاتے ہیں جو اپنے اثرورسوخ اور فنڈ کی وجہ سے ہر کام کو آسانی سے کر گزرتے ہیں، جادوئی خصوصیات کے حامل ملک ریاض کے پاس مخالفین کو اپنا بنانے کا فن بھی موجود ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے مالک کو سابق صدر اور پی پی کے شریک چیئرمین کا قریبی آدمی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ نام اُن کی صدارت کے دور میں سامنے آیا اور بہت تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں بنائے جانے والے کچھ ترقیاتی منصوبے بحریہ ٹاؤن پروجیکٹس کی وجہ سے بنائے گئے ہیں اور ملک ریاض کراچی کے لیے اس لیے بھی اچھے ثابت ہوئے کہ ان کی وجہ سے کراچی کی حدود بڑھ گئی اور اب ٹول پلازہ بحریہ ٹاؤن کے بعد منتقل کردیا گیا۔

ملک ریاض نے سب سے پہلے کلفٹن اور قرب و جوار کے علاقوں میں ترقیاتی کام کروائے اور بحریہ ٹاؤن نے اس کا انتظام سنبھالا یہی وجہ ہے کہ کلفٹن کا انڈر پاس صاف ستھرا اور بغیر کسی نقص کے آج بھی موجود ہے جس میں لائٹ وغیرہ کے مکمل انتظامات ہیں۔

بحریہ ٹاؤن نے جو اراضی سندھ سرکار سے حاصل کی اُس کی دیکھ بحال او رتمام انتظامات کی ذمہ داری اپنے سر لی اور یہ کام اب تک بہت خوش اسلوبی سے سرانجام دیا جارہا ہے، ملک ریاض کو جب سندھ حکومت نے باغ ابن قاسم حوالے کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تو میئر کراچی اور متحدہ قیادت نے اس کی بھرپور مخالفت کی بلکہ وسیم اختر تو دو قدم آگے اور اس غیر قانونی اقدام کو سازش قرار دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ جا پہنچے۔

وسیم اختر نے پھرتیاں دکھائیں اور کراچی کو چھوڑ کر باغ ابن قاسم کے دورے شروع کردیے، عدالت نے سندھ حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پارک کو میونسپل کارپوریشن کے حوالے ہی کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔

میئر کراچی کے موقف میں اچانک تبدیلی آئی اور انہوں نے گزشتہ مہینے ملک ریاض سے کراچی کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے معاہدہ کرلیا، یہ کام انہوں نے اس قدر باریکی سے کیا کہ متحدہ قیادت کو بھی معلوم نہیں ہوا تاہم جس روز دونوں شخصیات ٹیلی ویژن اسکرین پر اعلان کرنے کے لیے نمودار ہوئیں اُس روز اس سندھ حکومت سمیت مقتدر حلقوں کو اس ڈیل کا معلوم ہوا۔

اعلان کے بعد متحدہ قیادت وسیم اختر کو تبدیل کرنے کے پر تولنے لگی اور ملک ریاض کے پاس دبئی میں ملازمت کرنے والے مصطفیٰ کمال کو بھی یہ بات برداشت نہ ہوسکی، کراچی کی قسمت بدلنے کے لیے ہونے والے معاہدے کے بعد روشنیوں کا شہر اور زیادہ ابتر صورتحال میں چلا گیا۔

بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ویسی کی تیسی جاری ہے اور کچرے کے انباراور گندگی سڑکوں پر موجود ہے بلکہ اب تو کئی علاقوں اور مین شاہراہوں پر گڑ ابلنے لگے، اتفاق یہ ہے کہ یہ گٹر اُن علاقوں میں ابل رہے ہیں جو متحدہ اکثریتی علاقے ہیں۔

محض اتفاق ہے یا پھر سازش کہ جس علاقے اور گلیوں  میں رات گئے پی ایس پی کے کارکنان بیٹھے نظر آتے ہیں وہاں اگلے روز صبح گٹر ابلا ہوتا ہے اور پھر یہ سلسلہ چل نکلتا ہے، متحدہ کے کونسلرز اور چیئرمین کے پاس شکایت جائے تو اُن کا موقف ہوتا ہے ہمارے پاس اختیار نہیں فنڈ نہیں۔

سیاسی طور پر سرکاری اداروں میں پاک سرزمین پارٹی متحرک اور  مضبوط ہوگئی ہے جبکہ ایم کیو ایم کے منتخب نمائندے موجود ہیں اگر ہو متعلقہ ادارے کو کوئی کام کرنے کا بولتے ہیں تو سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس کام میں دیر سویر ہوجاتی ہے اور اہل علاقہ کو یہ وقت کرب میں گزارنا پڑتا ہے۔

اگر سیاسی جماعتیں کراچی سے مخلص ہیں تو آپس کے جھگڑے اور چپقلش کو بالائے طاق رکھیں اور شہر کے عوام کو ریلیف دیں تاکہ کراچی ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بن سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: