کراچی: بلدیہ ٹاؤن پولیس نے نوعمر لڑکی کو اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں نامزم ملزم کو گرفتار کرلیا۔
اس حوالے سے بلدیہ تھانے میں درج مقدمے کے متن کے مطابق مدعیہ (س) نے اپنے بیاان میں کہا ہے کہ وہ بلدیہ سرحدی کالونی نزد حقانی مسجد کی رہائشی ہوں اور 3 جنوری کو شام ساڑھے پانچ بجے میں اپنی والدہ کو بتا کر دادی کے گھر جو کہ دو تین گلیوں کے فاصلے پر ہے جانے کا بول کر گھر سے نکلی تھی کہ راستے میں ایک تنگ گلی میں ایک لڑکا جس کا نام ساجد عرف جوجو ہے اور وہ اسی محلے میں رہتا ہے موجود تھا جس نے مجھے روکا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ چلو میں نے انکار کیا تو اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ اور زبردستی گلی کے کونے تک کھینچتے ہوئے لے گیا جہاں ایک رکشا پہلے سے کھڑا تھا جس میں 4 لڑکے پہلے سے موجود تھے مجھے وہ اس رکشے میں زبردستی بٹْھایا اور مواچھ موڑ سپارکور روڈ کی جانب ایک خالی مکان میں لے گئے جہاں انہوں نے مجھے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا
مدعیہ کے مطابق میرا دعویٰ ساجد عرف جو جو و دیگر 4 نامعلوم ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
پولیس نے نوعمر لڑکی (س) کی مدعیت میں مقدم نمبر 14 سال 2023 بجرم دفعاہ 376 چونتیس کے تحت درج کرلیا ۔
پولیس نے مقدمہ میں نامزد ساجد عرف جو جو کو گرفتار کرلیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔
