ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاک بحریہ کی امن مشقوں اور پاکستان کی خاطر کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ہم حلقہ بندیوں اور بلدیاتی انتخابات کے خلاف دھرنا مؤخر کررہے ہیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملک اور قوم کے وقار کی بات کی اور وفاق کو کبھی مایوس نہیں کیا، امن مشقوں کو دیکھتے ہوئے فی الحال دھرنا مؤخر کررہے ہیں تاہم کسی صورت بھی اپنے مطالبے سے دستبردرار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ پہلے ملک اور ملکی وقار کا سوچا ہے، کبھی وفاق یا اداروں کو مایوس نہیں کیا، ان ساری باتوں کو دیکھتے ہوئے ہم فی الحال فیصلہ کررہے ہیں اور جلد دھرنے کیلیے نئی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ضمنی الیکشن بھی سر پر ہیں ممکن ہے کہ اب اُس کے بعد ہی دھرنا ہو۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہماری زندگی کا مقصد اور جہدوجہد کا مقصد سب سے پہلے پاکستان ہے، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، کراچی کے امن اور ترقی کے ساتھ براہ راست پاکستان کا استحکام وابستہ ہے، گورنر سندھ نے جو بات کی اس کو غور سے سنا ہے، ہم نے پاکستان کی خاطر بار بار اپنے حق سے دستبردار ہوکر پاکستان کو پئلے آگے رکھا، ماضی میں ہم نے دیکھا کہ اہم ترین دورے کے باوجود پی ٹئ آئی نے دھرنا موخر نہیں کیا‘۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ایم کیوایم پاکستان کے لیے یہ قربانی بھی دینے کو تیار ہے، الیکشن کمیشن کے پاس سندھ حکومت کے خط کے بعد الیکشن کرانے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا، ہمارے موقف کو ہائی کورٹ یا الیکشن کمیشن نے غلط نہیں مانا، کراچی کی آبادی کے لحاظ سے ایک سو دس سے ایک سو تیس یوسی کی سیٹ کم ہیں، انتخابات ہر لحاظ سے غیر قانونی ہے، بلدیاتی الیکشن الیکشن کمیشن کے قوانین کے بھی خلاف تھے، ہما مطالبہ کراچی کو اسکا حق دلانا تھا، ایم کیوایم کو اپنا مئیر لانا ہوتا تو الیکشن میں حصہ لیتی‘۔
ایم کیو ایم کنونیئر نے کہا کہ ’ایم کیوایم نے عوام اور کراچی کے لیے انتخابات کا بائیے کاٹ کیا، ہم اپنا مطالبہ کسی صورت ختم نہیں ہونے دیں گے، گورنر سندھ کی درخواست پر رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوگا اس میں دھرنے کا حتمی فیصلہ ہوگا، ہماری بات سب تک پہنچنی چائیے کہ ہم اپنے مطالبے سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے، ایم کیوایم امن مشق کے بعد دوبارہ دھرنا دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے، تاریخ کا اعلان سوچ کر کریں گے، ہماری حب ال وطنی پر کوئی شک نہیں کرسکتا‘۔
ایک سوال کے جواب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’ہمیں یہ معلوم تھا کہ 12 فروری کو پاک بحریہ کی نمائش ختم ہورہی ہے، پہلے ہم 10 فروری کی تاریخ کا سوچ رہے تھے تاہم پھر اس کیلیے بارہ فروری کی تاریخ مقرر کی، نمائش میں کئی ممالک کے مہمان شریک ہیں جو فوارہ چوک کے قریب ہوٹلوں میں مقیم ہیں، اسی باعث ہم دھرنا پاک نیوی کی امن مشق تک مؤخر کررہے ہیں‘۔
