کراچی : سوئی سدرن گیس کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر عمران منیار نے کہا ہے ہمیں جو بھی قدرتی گیس ملتی ہے وفاق کی جانب سے یہ بتایا جاتا کہ کس کو کتنی گیس دینی ہے ، گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے ، اس وقت جتنی گیس گھریلو یاصنعتی صارفین کو چاہیے وہ ہمارے پاس دستیاب نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بات پیر کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم نمبر ون میں ارکان سندھ اسمبلی کو صوبے میں گیس کے بحران اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دیتے ہوئے بتائی۔
سندھ اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران جی ڈی اے کے رکن نند کمار گوکلانی نے قدرتی گیس کے بحران پر ایوان میں اپنی ایک قرارداد پیش کی تھی جس پر ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ سوئی سدرن گیس کے ایم ڈی کو پیر کے روز سندھ اسمبلی طلب کرکے ان سے اس معاملے پر تفصیلی بریفننگ لی جائے ۔ سندھ اسمبلی کے بلانے پر ایم ڈی سوئی سدرن گیس کو وہاں پہنچے تھے ۔ ایم ڈی سوئی گیس نے کہا کہ ہمیں وفاقی حکومت جو گیس دیتی ہے وہ ہم آگے دیتے ہیں،ہمارے صرف پاس ایک میٹر بنانے کا پلانٹ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان دونوں میں گیس پیدا ہوتی ہے ، ہمارے پاس کل 810 ملین مکعب فٹ گیس ہے 695 ایم ایم ایف695 گیس سندھ سے آتی ہے،ہمیں جو گیس ملتی ہے وفاق ہمیں بتاتی ہے کہ کس کو گیس دینی ہے،گھریلو صارفین ہماری پہلی ترجیح ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دسمبر ، جنوری اور فروری میں ہم ایکسپورٹ انڈسٹری کی گیس میں کٹوتی کرتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں بعض ایریا ایسے ہیں جو بہت دور ہیں۔وہاں گیس پہنچانا مشکل ہوتا ہے۔ہماری کوشش ہوتی ہے تو ہم گیس ہر کسی تک پہنچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جنوری میں مشکل ہوئی تھی۔ اس وقت ہمیں 65 ایم ایم سی ایف گیس کی شارٹیج تھی۔سندھ میں ابھی بھی گیس کے بہت ذخائر ہیں۔پی ٹی آئی کے علی عزیز جی جی نے سوال کیا کہ اگر گیس نہیں ہے تو ایس ایس جی سی کے سلینڈر کیوں فروخت ہورہے ہیں۔کیا ان کے لیے گیس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایل پی جی ایک آلٹرنیٹ چیزہے۔ہم سلینڈروں میں گیس بھر کر نہیں دیتے ہیں۔ اپوزیشن ایم پی اے سید عبد الرشید نے کہا کہ لیاری میں سلینڈر پھٹنے سے 19 اموات ہوئی ہیں ،ہمارے چولہے میں گیس نہیں ہے ،پانچ گلیوں میں گیس آتی ہے۔پانچ گلیوں میں گیس کیوں نہیں آتی ہے؟۔سلو میٹر گیس کے چارج بھی لیتے ہیں۔ ایم ڈی سوئی سدرن عمران منیار نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ لیاری اور دیگر علاقوں میں لائن مکمل طور تبدیل کریں۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے لوگ مختلف اداروں میں جاتے ہیں لیکن ہمیں لائنوں کے حوالے سے اجازت نہیں ملتی ہے۔ایم ڈی سوئی سدرن گیس عمران منیار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ میٹنگ ریگولر کرنا چاہیے جہاں ان کی مدددرکار ہوگی وہ لیں گےکراچی میں بہت سی جگہوں پر غیر قانونی کمپریسر بھی موجود ہیں۔
