بلوچستان :شہر میں اسلحہ سمیت ، ڈیزل ، پیٹرول ، چھالیہ اور گاڑیوں کے پارٹس سمیت دیگر ممنوعہ اشیا کی مبینہ اسمگلنگ کے خلاف سی ٹی ڈی سول لائن کی ناردرن بائی پاس پر ناکہ بندی کے ، کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں سے کراچی آنے والی مسافر بسوں اور دیگر گاڑیوں کو روک کر چیک کیا گیا اور آنے جانے والے مسافروں کے کوائف بھی سختی سے چیک کیے گئے ۔
سی ٹی ڈی کے اس عمل سے نہ صرف سندھ بلوچستان کے اہم سیاستدانوں بلکہ ڈسکٹرکٹ کیماڑی اور ویسٹ میں تیعنات پولیس کے سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے افسران اور جرائم پیشہ عناصر میں بھی کھلبلی مچ گئی ۔
سی ٹی ڈی سول لائن میں تعینات ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ دو روز سے سی ٹی ڈی سول لائن کے افسران و اہلکار شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کو چیک کر رہے ہیں ۔
ناردرن بائی پاس پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے ، سی ٹی ڈی کی بھاری نفری گاڑیوں کی چیکنگ میں حصہ لے رہی ہے ، سی ٹی ڈی افسر چیکنگ کے عمل کی نگرانی کے لیے بکتر بند میں بیٹھ کر ناردرن بائی پاس پہنچے تھے ، بلوچستان سے کراچی میں داخل ہونے والے افراد پر بھی سخت نظر رکھی جا رہی ہے ۔
شہر میں داخل ہونے والے مسافروں کے کوائف کی جانچ پڑتال بھی کی جارہی ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان کے راستے پیٹرول ، ڈیزل ، کنگ آئل ، کپڑا ، چھالیہ ، کتھا ، انڈین گٹکا ، تمباکو ، بڑی چھوٹی گاڑیوں کے پارٹس ، ٹائر ، انڈین ادویات ، الیکٹرانکس سامان ، منشیات ، اسلحہ اور بغیر دستاویزات کے افغانی اور دیگر ممالک کے باشندوں کی حب کے بارڈر سے کراچی لائے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ کراچی سے گاڑیاں ، موٹرسائیکلیں اور دیگر وہیکل براستہ حب بلوچستان کے مختلف شہروں میں لے جائی جا رہی ہیں اسی طرح کے پی کے سے اسلحہ ، منشیات ، غیر ملکی کپڑا ، انڈین ادویات ، بغیر دستاویزات کے افغانی سمیت دیگر غیر ملکی باشندوں کو کراچی اور کراچی سے گاڑیاں ، موٹرسائیکلیں اور گٹکا ماوا بڑی تعداد میں اندرون سندھ ، پنجاب کے پی کے لے جایا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی پولیس اور اس کی ایجنسیوں میں وہ باصلاحیت افسران ہیں جو اندھے قتل اور روپوش دہشت گرد کا سراغ لگانے میں دیر نہیں کرتے ، زمین کے اندر سے گزرنے والی تیل کی لائن کی چوری جب کچھ نہیں ملتا تو پکڑ لیتے ہیں تو پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ اس گھناؤنے اور غیر قانونی کاموں کو کسی کا آشیر باد حاصل نہ ہو اور وہ گزشتہ سالہا سال سے کھلے عام چل رہا ہو ، پولیس افسر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ حکومت کا قرض ادا کرنے کا ٹاسک سیاستدانوں اور پولیس اور اس کی ایجنسیوں کو دے دیا جائے پھر آئی ایم ایف سے جان چھوٹ جائے گی ۔
