کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے ویمن پروٹیکشن ویلفیئر ٹرسٹ کے شہر میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف دائر کیس میں محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر کو نوٹس جاری کردئیے ۔
عدالت نے اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہارکیا عدالت نے آئی جی سندھ اور دیگر سے تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔
مزمل ممتاز ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں مُسلسل اضافہ ہورہا ہے ڈاکو عوام کو لوٹ مار کے دوران قتل بھی کردیتے ہیں لوٹ مار کے دوران روزانہ شہریوں کو قتل کیا جاتا ہے پولیس جرائم کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے خواتین کے پرس ،موبائل چھیننے کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی صورتحال قابو سے باہر ہو چکی ہے پولیس سی پی ایل سی سے بروقت رابطہ نہیں کرتی مزاحمت پر روزانہ کی بنیاد پر قتل کیا جارہا ہے اداروں کے درمیان باہمی رابطہ نہ ہونے کا فائدہ ملزمان کو ہوتا ہے موبائل چھیننے کے مقدمات بھی سی ٹی ڈی اور ایس آئی یو کو دیئے جائیں ۔
درخواست میں چیف سیکریٹری ،ہوم سیکریٹری سندھ، پولیس حکام ،ایف آئی اے ،سی پی ایل سی اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو بھی فریق بنایا گیاہے۔
