کراچی: نقیب اللہ قتل کیس میں اہم پیش رفت سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار و دیگر کی بریت کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی گئی۔
اپیل مقتول نقیب اللہ کے بھائی شیر عالم کی جانب سے جبران ناصر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی ہے اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کو بری کرکے شواہد کو نظر انداز کیا ہے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ 23 جنوری 2023 کو سنایا تھا عدالت نے عدم شواہد کی بناء پر راؤ انوار سمیت 18 ملزمان کو بری کردیا تھا۔
جبران ناصر نے کہا کہ تین اپلین فائل کی ہیں ایک قتل اور اغواء کا کیس تھا ایک غیر قانونی اسلحہ اور تیسرا کیس دھماکہ خیز مواد سے متعلق تھا تمام نامزد ملزمان کے خلاف اپیلیں فائل کی ہیں مختلف کیسز کو ایک فیصلہ نہیں دیا جا سکتا ہے ایک کیس کے شواہد دوسرے میں پیسٹ نہیں کیا جا سکتے ٹرائل کورٹ نے سی ڈی آر کے لیے ماہرین کو طلب نہیں کیا تھا ہم نے مقرر مدت میں اپیل دائر کردی ہے۔
نقیب اللہ کے بھائی شیرعالم نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے ہائیکورٹ سے امید ہے انصاف فراہم کیا جائے گااگر ہائیکورٹ سے انصاف نہیں ملتا ہے تو سپریم کورٹ جائیں گے۔
