اسلام آباد : بینکنگ کورٹ نے عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی۔فیصلہ سنانے کے وقت فارن فنڈنگ ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بینکنگ کورٹ میں جج رخشندہ شاہین کی عدالت میں پیش ہو گئے۔
جج رخشندہ شاہین نے ہجوم کی صورت میں موجود پی ٹی آئی کے وکلاء اور رہنماؤں کی موجودگی میں فیصلہ سنایا۔اس سے قبل جج رخشندہ شاہین نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور محفوظ کیا گیا فیصلہ 20 منٹ بعد سنانے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے بھی پہلے بینکنگ کورٹ اسلام آباد نے آج عمران خان کے خلاف ممنوع فنڈنگ کیس کی سماعت کرتے ہوئے وکیل کی 1 گھنٹے کے لیے وقفہ کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔اس موقع پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو 9 بجے عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا، کیا ایسی سہولت عام شہریوں کو بھی ملتی ہے؟۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے کہ حاضری کے بعد دلائل دیے جاتے ہیں۔
وکیل سلمان صفدر نے دلائل کی تیاری کے لیے عدالت سے وقت مانگ لیا۔عدالت نے 1 گھنٹے کے لیے وقفہ کرنے کی درخواست مسترد کر دی اور عمران کے وکیل سلمان صفدر سے کہا کہ 5 منٹ ہیں، تیاری کر لیں۔
جس کے بعد عدالت نے 5 منٹ کے لیے سماعت میں وقفہ کر دیا۔5 منٹ کے وقفے کے بعد بینکنگ کورٹ میں ممنوع فنڈنگ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کے خلاف ایف آئی اے نے بہت کم وقت میں انکوائری کی، عموماً ایسے مقدمات میں انکوائری کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے، عمران خان ابھی موجود نہیں، تاہم وہ عدالت پہنچ جائیں گے۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان پر کئی الزامات گزشتہ سماعت پر لگائے گئے، ان کی میڈیکل رپورٹ پر سوالات اٹھائے گئے، ان پر ضمانت میں توسیع کو غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی گئیں، بینکنگ کورٹ عمران خان کی طبی رپورٹ سے مطمئن تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوکت خانم اسپتال سے طبی رپورٹ طلب کی جو یہاں بھی جمع کرا دی ہے۔
