اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کئے بغیر ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، دور دراز علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے”ا سکول آن ویلز “کا منصوبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کوا سکول آن ویلز منصوبے کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتےہوئے کیا۔ منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 8 بسوں پر سکول آن ویلز منصوبہ اسلام آباد اور گرد ونواح کے بچوں کوموبائل سکولز کے ذریعے تعلیم فراہم کرے گا۔ وزیراعظم نے سکول آن ویلز منصوبےکو سراہتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے سے دیہات میں بچوں کو تعلیم کے زیور سےآراستہ کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا وہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ موبائل سکولز دیہات میں تعلیم کا نقلاب لے کر آئیں گے اور ان سے ہزاروں لاکھوں بچوں ، جو دیہاتوں کی گلیوں کی دھول میں گم ہو جاتےہیں، کو تعلیم کی سہولت حاصل ہو گی اور وہ پاکستان کے عظیم معمار بنیں گے۔ وزیراعظم نے کہا منصوبے کا دائرہ کار چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک پھیلانے کا جائزہ لیاجائے ، اس سے بڑی اور کوئی قومی خدمت نہیں ہو سکتی۔وزیراعظم نے اس موقع پر خصوصی طورپر ڈیزائن کی گئی بسوں کابھی معائنہ کیا اور اساتذہ اور بچوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم نے موبائل لائبریری کے منصوبے کو بھی سرا ہا۔ وزیراعظم اس موقع پر بچوں میں گھل مل گئے اور ان سے سوال جواب کئے۔وزیراعظم نے موسم بہار کی شجرکاری مہم کے آغاز کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ نسلوں کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لئے شجر کاری کو قومی نصب العین بنانے کی ضرورت ہے، رواں موسم بہار میں ملک گیر شجرکاری مہم چلائی جائے گی جس میں 24 کروڑ سے زائد درخت لگائے جائیں گے،زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑھ چڑھ کر اس مہم میں حصہ لیں، علما و مشائخ عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگرکریں۔قبل ازیں وزیراعظم نے پودا لگا کر شجر کاری مہم کاآغازکیا۔
وزیراعظم نے کہارواں سال موسم بہار میں ملک گیر شجرکاری مہم چلائی جائے گی جس میں 24 کروڑ سے زائد درخت لگائے جائیں گے۔انہوں نے کہا پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب نے جنگلات کی اہمیت کو اور بھی اجاگر کیا ہے، شجرکاری کو قومی نصب العین بنانے کی فوری ضرورت ہے،ہمیں آئندہ نسلوں کے مستقبل کو ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے محفوظ بنانے کے لئے قومی سطح پر نہ صرف عملی اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی اس کی آگاہی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہناتھاکہ سول سو سائٹی، وکلاءاور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سے فرداً اور اجتماعاً گزارش ہے کہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، علماءو مشائخ بھی مدرسوں میں درختوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اقدامات کریں،پاکستان میں شہری آبادیاں کنکریٹ کا جنگل بنتی جا رہی ہیں، ہمیں شہروں میں بھی درختوں اور گرین ایریاز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہو گا۔
