کراچی: لاپتہ افراد کے اہلخانہ غم سے نڈھال، عدالت سے لاپتہ افراد بازیاب کرانے کی دھائیاں، عدالت عالیہ نے ہائیکورٹ آفس کو لاپتا افراد کی فہرست مرتب کرکے وفاقی و صوبائی سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور حراستی مراکز کو ارسال کرنے کا حکم دیدیا۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
لاپتہ افراد کے اہلخانہ عدالت میں غم سے نڈھال ہوگئے، لاپتہ افراد بازیاب کرانے کی دھائیاں دیتے رہے۔
اہلخانہ نے کہا کہ عبد الرحمان کو 2015 میں لیاری سے حراست میں لیا گیا۔ عبد الرحمان ایک بزرگ تھے کسی گینگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایس ایس پی انوسٹیگیشن نے بتایا کہ 20 جے آئی ٹیز ہوچکیں۔ سیکریٹری داخلہ کی رپورٹ آنا باقی ہے۔ حراستی مراکز سے رپورٹس آنے کے بعد جمع کرا دی جائے گی۔
لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر عدالت برہم ہوگئی۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھٹو نے ریمارکس دیئے کہ تمام لاپتہ افراد کے کیسز کی فہرست مرتب کی جائے۔ لاپتہ افراد کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں بہت سی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ بتایا جائے حراستی مراکز میں کتنے لاپتہ افراد کو رکھا گیا۔
لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر عدالت کا بڑا حکم دیدیا۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ آفس کو فہرست مرتب کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے فہرست وفاقی و صوبائی سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور حراستی مراکز کو ارسال کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی۔
