Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
پینشنری واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف کےایم سی ہیڈ آفس پراحتجاج ، دھرنا | زرائع نیوز

پینشنری واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف کےایم سی ہیڈ آفس پراحتجاج ، دھرنا

کراچی: کے ایم سی و ڈی ایم سیز کے ریٹائر ملازمین نے رمضان المبارک سے قبل ریٹائرووفات پاجانے والے ملازمین کے پینشنری واجبات کی 2016 سے تاحال ادائیگی نہ ہونے،2018 سے وفات یافتہ ملازمین کے بچوں اور بیواؤں کو فوتگی کوٹے پر ملازمتوں کی عدم فراہمی کے خلاف آج کےایم سی ہیڈآفس پر بھرپور احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے دیا،اور زبردست نعرے بازی کی۔

اس موقع پر پنشنرز و وفات یافتہ ملازمین کی بیواؤں کی اپیل پر اجتماعی طور پر واجبات کی عدم ادائیگی اور فوتگی کوٹے پر ملازمتوں کی عدم فراہمی کے ذمہ داروں کے لیے اجتماعی طور پر جھولیاں اور ہاتھ اٹھاکر دعائیں کی گئی ۔

احتجاج میں سجن یونین،متحدہ ورکرز فرنٹ،پیپلزیونائیٹڈورکرز یونین ساؤتھ،یونائیٹڈ ورکرز یونین ایسٹ،پیپلز یونٹی کے ایم سی ،کے ایم سی جوائنٹ ایمپلائز ایکشن کمیٹی دیگر یونینز کے قائدین سیدذوالفقارشاہ، محمد احمد،شاہ رخ رضوان، گل اسلام،جاوید بلوچ،اشرف اعوان، راجہ عاصم شہزاد،ڈاکٹر سعید اختر،آصف خان،ریحان قاضی،عباس احمد،امتیاز شاہ،ملک اعجاز اور الائنس کی دیگر قیادت کے ساتھ ساتھ ریٹائر ملازمین،بیوہ پینشنرزکی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

آخر میں کےایم سی کے ان افسران کے لیےجو ایمانداری اور جانفشانی اور میرٹ کے اصول کے تحت کےایم سی کی خوشحالی اور سربلندی کے لیے دعائے خیر مانگی گئی اوران افسران جنہوں نے کےایم سی کو انتظامی اور مالی بحران میں مبتلا کیا ہے ان کے لیے اللہ سے فریاد کی گئی کہ اللہ تعالی ان کو راہ راست پر لے آئے اور اگر ان کے نصیب میں راہ راست پر آنا نہیں ہے تو کےایم سی سے ان کی جان چھڑا دے اور سندھ حکومت کے اعلی حکام خصوصا وزیراعلی سندھ کے لیے اللہ تعالی سے یہ فریاد کی گئی اللہ ان کو توفیق دے کہ اس ماہ مبارک میں 4.2ارب کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دے کر ان کے لیے باعث رحمت بنیں۔

احتجاج کے دوران کچرے سے بھرے ہوئے ٹرک بھی کے ایم سی ہیڈآفس کے سامنے کھڑے کردئیے گئے تھے۔