بلدیہ عظمیٰ پوسٹنگ کے منتظر افسران

دوہرے اورتین چارج کے حامل افسران سے اضافی چارج لیکر پوسٹنگ کے منتظر افسران بلدیہ عظمیٰ کراچی کو دیا جائے
کے ایم سی جوائنٹ ایمپلائز ایکشن کمیٹی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)بلدیہ عظمیٰ کراچی دوہرے اورتین چارج کے حامل افسران سے اضافی چارج لیکر پوسٹنگ کے منتظر افسران کو دیا جائے کے ایم سی جوائنٹ ایمپلائز ایکشن کمیٹی کا مطالبہ۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں طویل عرصے سےپوسٹنگ کےمنتظر افسران کی تعیناتی کے لیے روز اول سے ہی اپنا موقف واضع کرتی چلی آرہی ہے تاہم ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہرا رہے ہیں بلدیہ عظمیٰ کراچی میں کمیٹی کو حاصل فہرست کے مطابق 33 افسران کی لسٹ منسلک ہے تاہم پوسٹنگ کےمنتظرافسران کی تعداد اس فہرست سے کہیں زیادہ ہے اور مکمل تعداد محکمہ ایچ أر ایم سے لی جاسکتی ہے ان تمام افسران میں 17 گریڈ تا 19 گریڈ تک کے افسران شامل ہیں ان قابل اور با صلاحیت افسران جن کا ماضی ہر دور میں بے داغ رہا تاہم أج طویل عرصے سے اپنی تعیناتی کے منتظر ہیں جبکہ ادارے میں تعینات افسران کی اکثریت دوہرے چارج ہی نہیں ٹرپل چارج کے حامل بھی ہیں اور او پی ایس افسران بھی جا بجا تعینات ہیں اعلیٰ عدالتیں بھی اس صورت حال پر اپنی برہمی کا اظہار اور دوہرے ٹرپل چارج اور او پی ایس تعیناتی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا چکی ہیں اور رواں حالات میں کے ایم سی کی پوسٹوں پر ایس سی یو جی افسران تعینات ہورے ہیں کے ایم سی جوائنٹ ایمپلائز ایکشن کمیٹی ایسے تمام غیر قانونی غیر اخلاقی اقدامات کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضیٰ وہاب میونسپل کمشنر کے ایم سی افضل زیدی اور وزیر بلدیات سندھ کے فوکل پرسن کرم اللہ وقاصی سے مطالبہ کرتی ہے کہ دوہرے اورتین چارج کے حامل افسران سے اضافی چارج لیکر پوسٹنگ کےمنتظرافسران بلدیہ عظمیٰ کراچی کو دیا جائے اس ہی طرح او پی کلچر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوۓ او پی ایس افسران سے.چارج واپس لیا جائے اور پوسٹنگ کےمنتظر افسران کو انکی جگہ تعینات کیا جاے ایس سی یو جی افسران کو ایس سی یوجی پوسٹوں پر تعینات کیا جاے تاہم انکی کے ایم سی کی پوسٹوں پر تعیناتی ہرگز قابل قبول نہ ہوگی اور أپکے اقدامات سے ہی دراصل ادارہ بہتری کی منذلوں کو پا سکتا ہے یہ قابل اور باصلاحیت پوسٹنگ کے منتظر افسران تعینات ہوکر آپکا اور ادارے کا مضبوط بازو بنیں گےاسلیے ادارہ کی خوشحالی کے مقاصد واحداف کے حصول کے لیے اقدامات بروئے کار لائے جائیں اور اوپی ایس کلچر اور دوہرے چارج کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں: