لندن: بانی ایم کیو ایم گزشتہ روز اشتعال انگیز تقریر کیس کے سلسلے میں اولڈ بیلی عدالت میں پیش ہوئے جہاں مجسٹریٹ نے اُن سے سوالات کیے۔ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ بانی ایم کیو ایم پر گزشتہ روز فرد جرم عائد کردی جائے گی اور جج 2016 میں کی جانے والی نفرت انگیز تقریر کے باقاعدہ عدالتی ٹرائل کا آغاز کردیں گے۔
بانی ایم کیو ایم پر 2016 میں نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے انہیں 6 ہفتے قبل ویسٹ منسٹر کورٹ میں دہشت گردی کی دفعات پر چارج کیا گیا تھا، البتہ گزشتہ روز جب بانی ایم کیو ایم عدالت پہنچے تو چند گھنٹے انتظار کے بعد عدالت نے اُن کی ضمانت میں توسیع کردی۔
ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق الطاف حسین کی ضمانت میں جون 2020 تک توسیع کردی گئی، عدالت نے کوئی سختیاں عائد نہیں کیں البتہ ملک نہ چھوڑنے کی شرط برقرار ہے۔ بانی ایم کیو ایم جب عدالت سے باہر آئے تو خوش نظر آئے اور انہوں نے اپنا روایتی وکٹری کا نشان بنایا۔
واضح رہے کہ وکٹری کا نشان عام طور پر فتح کے وقت لہرایا جاتا ہے، اُن کی تصاویر اور ویڈیوز سے ایم کیو ایم کارکنان اور تجزیہ نگار سمجھ رہے ہیں کہ شاید کیس کا فیصلہ حق میں آجائے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ عدالت نے سخت شرائط پر ضمانت منظور کی تھی جس کے تحت اُن کے گھر پر اضافی نفری عائد کی گئی، پاسپورٹ ضبط، سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی جبکہ لوکیٹر بھی باندھا گیا تھا۔
