Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اسد درانی کے خلاف تحقیقات ختم، ای سی ایل سے نام جلد نکالا جائے گا، وزارت دفاع | زرائع نیوز

اسد درانی کے خلاف تحقیقات ختم، ای سی ایل سے نام جلد نکالا جائے گا، وزارت دفاع

اسد درانی کے خلاف تحقیقات ختم، ای سی ایل سے نام جلد نکالا جائے گا، وزارت دفاع

اسلام آباد: وزارت دفاع نے آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے جلد نکالنے کا عندیہ دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسد درانی کی جانب سے دائر ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے دائر ہونے والی درخواست پر سماعت سنگل رکنی بینچ جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا تھا۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کی جانب سے وکیل عمر آدم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے مؤکل کے حق میں دلائل پیش کیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ ای سی ایل نام نہ نکالنے کا وزارت داخلہ کا 31 اکتوبر 2019 کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے کیونکہ اسد درانی کو پروفیشنل کام اور فیملی سے ملنے کے لیے بیرون ملک جانا ہے، میرے مؤکل اور اہل خانہ قابلِ فخر پاکستانی ہیں جو دہری شہریت بھی نہیں رکھتے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ای سی ایل میں اسد درانی کا نام رکھنا بلیک میل یا خاموش کرانے کی کوشش ہے، میرا مؤکل ایک ایسا بہادر شخص ہے جس نے ملک کے لیے لڑائی لڑی اور آج بھی ایمانداری کے ساتھ ملک کا تحفظ کررہا ہے لہذا عدالت وزارت داخلہ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دے۔

اسد درانی کورٹ مارشل کے خلاف عدالت پہنچ گئے، ملٹری سسٹم پر عدم اعتماد

جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اسد درانی کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ مین کیوں ڈالا گیا جس پر عمر آدم ایڈوکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جنرل (ر) اسد درانی کا نام بغیر کسی وجہ کے ای سی ایل میں ڈالا گیا۔

 

دورانِ سماعت وزارتِ دفاع کی جانب سے پیش ہونے والے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسد درانی کے حوالے سے انکوائری ختم ہو گئی ہے، اُن کا نام جلد ای سی ایل سے نکالا دیا جائے گا، عدالت ہمیں ایک ہفتے کا وقت دے۔

عمر آدم ایڈوکیٹ نے اس پر کہا کہ ’ضاابطہ اخلاق کی وجہ سے سزا ضرور ہوئی مگر اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا غیر قانونی ہے‘۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے وزارت داخلہ کو جواب دینے کے لئے وقت دیا اور سماعت کو بیس نومبر تک ملتوی کردیا۔

خفیہ ایجنسی کے افسر نے اسامہ کی مخبری کی، جنرل اسد درانی کے انکشافات