کراچی کے خلاف سندھ حکومت کی ایک اور سازش بے نقاب، 191 پولیس افسران کا کراچی تبادلہ

کراچی کے خلاف سندھ حکومت کی ایک اور سازش بے نقاب، 191 پولیس افسران کا کراچی تبادلہ

(نمائندہ خصوصی) ‏کراچی کے خلاف سندھ حکومت کی ایک اور سازش سامنے آگئی، سندھ حکومت نے لاڑکانہ سے 190 سے زائد پولیس افسران کو کراچی منتقل کرکے پوسٹنگ دے دی جس کی وجہ سے مقامی شہریوں کا حق ایک بار پھر مارا گیا۔

حکومت سندھ نے کروناوائرس کی وباء کی بازگشت میں لاڑکانہ کے 191 پولیس افسران کا کراچی میں تبادلہ کردیا، اتنی بڑی تعداد میں پولیس افسران کو لاڑکانہ سے تبادلہ کرکے ایک ساتھ کراچی رینج پولیس یا کسی اور رینج کے حوالے کرنے کی مثال نہیں ملتی۔

حکومت سندھ کے محکمہ پولیس کے حکم نامے کے مطابق لاڑکانہ رینج کے 73 پولیس انسپکٹرز کا فوری کراچی رینج میں تبادلہ کردیا گیا ہے ،سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام پولیس افسران کا کراچی میں تقرری کا مقصد لاڑکانہ میں پولیس انسپکٹرز کی نئی اسامیاں پیدا کرنا ہے ۔

جس کے نتیجے میں کراچی کا ڈومیسائل رکھنے والوں کیلئے پولیس میں بھرتی ہونے کے مواقعے غیر معمولی طور پر محدود ہوجائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق آئی جی کلیم امام ایسے ہی اقدامات پر مزاحمت کررہے تھے جس کی وجہ سے حکومت سندھ ان سے نالاں تھی ۔ مذکورہ تمام افسران کا بنیادی تعلق لاڑکانہ سے ہی ہے ان تمام نے اندرون سندھ کے ڈومیسائل کے تحت ہی پولیس میں ملازمتیں حاصل کی تھیں۔ خیال رہے کہ صوبائی پولیس کا مکمل کنٹرول سندھ حکومت کی براہ راست نگرانی میں جانے کے بعد یہ اس طرح کا پہلا قدم ہے ۔

جس کے نتیجے میں خد شہ ہے کہ کراچی میں سیاسی اور سماجی جماعتوں اور شہری حلقوں کی جانب سے شدید منفی ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔

جن پولیس انسپکٹرز کا کراچی میں تبادلہ کیا گیا ہے ان میں غلام مصطفٰی ابڑو، نثار احمد کھوکھر، افتاب احمد مگسی، رشید لودہی، منظور احمد مہر، اسلام جتوئی، شبیر عباسی، عبدالحلیم سومرو، غلام اضغر، نزیر حسین مگسی، زاہد حسین قادری، انور علی حسان ، محمد ارس نورانی، غلام شبیر جانوری، سید وریل شاہ، جان محمد منگریو، ثنااللہ جلبانی، شفقت دھامرا، محمد مجتبی ابرو، غلام شبیر کھیڑو، نیر حسین بروہی، غلام مصطفٰی، جاوید بروہی ،سیف اللہ سدھایو ،آصف علی، عبدالوحید ابڑو، ممتاز علی سیال ،حسین علی بروہی، جانی جاکھرانی، الیاس سانگی، عبدالسلام چانڈیو، گلزار کلہوڑو، امداد چانڈیو ، طالب حسبانی ،ارسلاخان پٹھان،غلام قادر جتوئی، اظہر احمد منگی، طارق جلیان، اسلم پرویز ابڑو، نور محمد چنا،عبدالستار بھیو، امید علی شاہ، محمد سلیم پٹھان ،گل شیر، ملازم عباسی ، محمد علی مہر، منور بروہی، غلام سرور سرکی، عبدالقدوس ماری، زبیر احمد جلیان، غلام مصطفٰی ندوانی، عبدالکلیم شاہ، طالب جلبانی ،شبیر سہتو، مختاریا میمن، برکت علی شاہ، سجاد سومرو، نیاز مغیری، محمد الیاس اوڈھو ،سید احمد دیہر، امداد ابڑو، فرمان علی بھٹو، وزیر احمد بھٹو، اعجاز علی سیہر، سلیم رضا ابڑو، بشیر مگسی، اظہار احمد، نثار احمد نون، منظور بابر بھٹو اور عبدالغفار سنجرانی شامل ہیں ۔

واضح رہے کہ پولیس میں ایک پلاٹوں میں شامل کل تعداد اہلکاروں کی تعداد 15 تا 45 ہوا کرتی ہے ۔

اس حساب سے دو پلاٹون کے مساوی پولیس انسپکٹر کی فورس کو کراچی پہنچادیا گیا ہے ۔ جو ایڈیشنل آئی جی کراچی کی صوابدید پر ہوگی ۔

خدشہ ہے کہ ان میں سے اکثریت کو ایس ایچ او لگادیا جائے گا اس طرح کراچی کے تھانہ انچارج میں بیشتر سندھیوں کی ہوجائے گی ۔

کراچی کے عوام نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جس ڈویژن کے لیے جو بھرتیاں کی جاتی ہیں ان کی تعیناتی بھی اسی ڈویژن میں کی جاتی ہےلیکن ایک ساتھ 191 پولیس انسپکٹرز کی کراچی میں تقرری نہ صرف خلاف ضابطہ ہے بلکہ خلاف قانون بھی ہے ۔

عمران خان کو سندھ حکومت کی اسِ حرکت کا فوری نوٹس لینا چائیے اور سندھ حکومت کے تعصب سے کراچی کی عوام کو نجات دلانا چائیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: