Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
بلال پاشہ: ’’زندگی اتنی خوبصورت ہے اس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے‘‘ | زرائع نیوز

بلال پاشہ: ’’زندگی اتنی خوبصورت ہے اس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے‘‘

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں کنٹومنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو بلال پاشا نے خودکشی کرلی، یہ بلال کو معمولی شخص نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کیلیے روشنی کی کرن اور امنگ تھا۔

پولیس کے مطابق میت سی ایم ایچ بنوں منتقل کر دی گئی، بتایا جارہا کہ بلال پاشا کچھ دنوں سے پریشان تھے اور ڈیشریشن کا شکار تھے۔ پولیس نے بتایا کہ واقعہ انکے گھر کے اندرپیش آیا نماز جنازہ دفتر کنٹونمنٹ بورڈ میں ادا کر دی گئی، نماز جنازہ کے بعد میت آبائی گاؤں روانہ کر دی گئی۔

پولیس نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کے بیانات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلال پاشہ بنگلے میں تنہا ٹہلتا اور باتیں کرتا تھا۔

سوشل میڈیا پر بلال پاشہ ٹاپ ٹرینڈ

بلال پاشہ ویسے تو عام افسر تھے مگر اُن کے انتقال کے بعد اب زندگی کے مختلف پہلو سامنے آئے، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اس قدر زیر بحث رہا کہ بلال پاشہ ٹاپ کا نام سب سے اوپر ٹرینڈ کرنے لگا۔

دیہاڑی دار مزدو اور پسماندہ گھرانے کا اصول پسند بلال پاشہ

سوشل میڈیا پر ویسے تو بلال کے حوالے سے مختلف کہانیاں شیئر کی گئیں ہیں تاہم جس کی تصدیق ہوئی وہ یہ ہے کہ بلال نے ابتدائی تعلیم یعنی چھٹی جماعت تک ایک مسجد میں پڑھا کیونکہ گھر والے فیس ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔ حہد انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔

پھر مقابلے کا امتحان پاس کرکے بلال سی ایس پی بن گئے، یہاں وہ اصول پسند تھے اور اکثر اپنے اوپر پڑھنے والے دباؤ اور اصولوں پر ڈٹ جانے کے حوالے سے دوستوں سے گفتگو کرتے تھے۔ ایک دوست کے ساتھ اُن کی واٹس ایپ چیٹ میں بلال نے یہ بھی کہا تھا کہ جب بات یا دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے گا تو وہ خودکشی کرلیں گے۔

ویسے تو بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔

بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے  اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس پاس کرنے کو صرف ایلیٹ کلاس سے منسوب کرتے تھے۔ سلسلہ چل نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نوجوان سی ایس ایس کے خواب آنکھوں میں سجائے اس سفر پر گامزن ہونے لگے۔

Image

ابھی بلال پاشا کی زندگی کی شروعات ہوئی تھی اور موت نے آن دبوچ لیا۔ بلال کی موت کی وجہ بس ایک ہی تھی۔۔ سول سروس میں ملنے والا ڈپریشن۔ وہ جس سے بھی بات کرتا یہی کہتا کہ وہ یا تو نوکری چھوڑ دے گا یا خودکشی کرلے گا۔

Image

بلال کی موت سے دو باتیں عیاں ہیں، ایک، ڈپریشن جان لیوا بیماری ہے۔ بلال سترہویں سکیل کی عام نوکری پہ رہتا تو شاید کبھی اس Pyrrhic Victory کا شکار نہ ہوتا۔

Image

سی ایس ایس ایسی چیز نہیں ہے جس کی خاطر جان سے بھی ہاتھ دھویا جائے۔ ہر سال 17 فیصد بیوروکریٹ اپنی نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ کو اللہ حافظ کہتے ہوئے استعفے دے دیتے ہیں۔ بلال بھی یہی کہتا تھا ” یہ لوگ بتی اور سبز نمبر پلیٹ دیکھتے ہیں لیکن میرے اندر نہیں دیکھتے”۔

سوشل میڈیا پر بلال پاشہ کی معنی خیز ویڈیوز بھی وائرل

ایک وائرل ہونے والی ویڈیو میں بلال پاشہ یہ بتا رہے ہیں کہ بنوں میں جو میری ٹیم ہے اُس کا احترام کرتا ہوں، کھانا بنانے والے اور گاڑی چلانے والے کو اسٹاف نہیں سمجھا۔