خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں کنٹومنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو بلال پاشا نے خودکشی کرلی، یہ بلال کو معمولی شخص نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کیلیے روشنی کی کرن اور امنگ تھا۔
پولیس کے مطابق میت سی ایم ایچ بنوں منتقل کر دی گئی، بتایا جارہا کہ بلال پاشا کچھ دنوں سے پریشان تھے اور ڈیشریشن کا شکار تھے۔ پولیس نے بتایا کہ واقعہ انکے گھر کے اندرپیش آیا نماز جنازہ دفتر کنٹونمنٹ بورڈ میں ادا کر دی گئی، نماز جنازہ کے بعد میت آبائی گاؤں روانہ کر دی گئی۔
پولیس نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کے بیانات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلال پاشہ بنگلے میں تنہا ٹہلتا اور باتیں کرتا تھا۔
سوشل میڈیا پر بلال پاشہ ٹاپ ٹرینڈ
بلال پاشہ ویسے تو عام افسر تھے مگر اُن کے انتقال کے بعد اب زندگی کے مختلف پہلو سامنے آئے، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اس قدر زیر بحث رہا کہ بلال پاشہ ٹاپ کا نام سب سے اوپر ٹرینڈ کرنے لگا۔
دیہاڑی دار مزدو اور پسماندہ گھرانے کا اصول پسند بلال پاشہ
سوشل میڈیا پر ویسے تو بلال کے حوالے سے مختلف کہانیاں شیئر کی گئیں ہیں تاہم جس کی تصدیق ہوئی وہ یہ ہے کہ بلال نے ابتدائی تعلیم یعنی چھٹی جماعت تک ایک مسجد میں پڑھا کیونکہ گھر والے فیس ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔ حہد انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔
#Bilalpasha Sir is died, but he left a meaning full message to the rest of the world.
إِنَّا ِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ pic.twitter.com/45C91sNxpu— Shoaib Khan (@Shoaibbadaber) November 27, 2023
پھر مقابلے کا امتحان پاس کرکے بلال سی ایس پی بن گئے، یہاں وہ اصول پسند تھے اور اکثر اپنے اوپر پڑھنے والے دباؤ اور اصولوں پر ڈٹ جانے کے حوالے سے دوستوں سے گفتگو کرتے تھے۔ ایک دوست کے ساتھ اُن کی واٹس ایپ چیٹ میں بلال نے یہ بھی کہا تھا کہ جب بات یا دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے گا تو وہ خودکشی کرلیں گے۔
ویسے تو بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔
It’s heart wrenching
We lost a gem ????
????????
You’ll be missed sir #bilalpasha pic.twitter.com/nkt6Qflftg— تابندہ راؤ???????? (@TabiRao4) November 27, 2023
بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس پاس کرنے کو صرف ایلیٹ کلاس سے منسوب کرتے تھے۔ سلسلہ چل نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نوجوان سی ایس ایس کے خواب آنکھوں میں سجائے اس سفر پر گامزن ہونے لگے۔
ابھی بلال پاشا کی زندگی کی شروعات ہوئی تھی اور موت نے آن دبوچ لیا۔ بلال کی موت کی وجہ بس ایک ہی تھی۔۔ سول سروس میں ملنے والا ڈپریشن۔ وہ جس سے بھی بات کرتا یہی کہتا کہ وہ یا تو نوکری چھوڑ دے گا یا خودکشی کرلے گا۔
بلال کی موت سے دو باتیں عیاں ہیں، ایک، ڈپریشن جان لیوا بیماری ہے۔ بلال سترہویں سکیل کی عام نوکری پہ رہتا تو شاید کبھی اس Pyrrhic Victory کا شکار نہ ہوتا۔
سی ایس ایس ایسی چیز نہیں ہے جس کی خاطر جان سے بھی ہاتھ دھویا جائے۔ ہر سال 17 فیصد بیوروکریٹ اپنی نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ کو اللہ حافظ کہتے ہوئے استعفے دے دیتے ہیں۔ بلال بھی یہی کہتا تھا ” یہ لوگ بتی اور سبز نمبر پلیٹ دیکھتے ہیں لیکن میرے اندر نہیں دیکھتے”۔
سوشل میڈیا پر بلال پاشہ کی معنی خیز ویڈیوز بھی وائرل
ایک وائرل ہونے والی ویڈیو میں بلال پاشہ یہ بتا رہے ہیں کہ بنوں میں جو میری ٹیم ہے اُس کا احترام کرتا ہوں، کھانا بنانے والے اور گاڑی چلانے والے کو اسٹاف نہیں سمجھا۔
Heart touching ????????#bilalpasha pic.twitter.com/nAQNLTOTF3
— CSS PMS plus. (@CssPmsPlus) November 27, 2023
RIP ????????#BilalPasha pic.twitter.com/b2GEWu50pG
— Shaukat Mahmood Somroo (@ShokiSomroo) November 27, 2023
