Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
شہر بھر کی کمرشل عمارتوں کے سیفٹی آڈٹ‌ کا فیصلہ | زرائع نیوز

شہر بھر کی کمرشل عمارتوں کے سیفٹی آڈٹ‌ کا فیصلہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر )میئر کراچی  مرتضی وہاب نے کراچی کی مختلف عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات کے پیش نظرشہر کی کمرشل عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

میئر کراچی  مرتضی وہاب کا افسران سے مشاورتی اجلاس کے بعد بیان میں کہنا تھا کے فائر سیفٹی آڈٹ کے لئے تین ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ اور طارق روڈ کی عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائیگا دیکھا جائیگا کن عمارتوں میں فائر سیفٹی کا نظام موجود ہے یا نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ کئی بڑی کمرشل عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے نہیں ہیں، کے ایم سی کا عملہ ان علاقوں میں تمام بڑی عمارتوں کا جائزہ لے گا، جن عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے ہیں وہاں کی انتظامیہ انہیں واضح کرے قانون کے مطابق بڑی عمارتوں میں فائر سیفٹی کا نظام اور ہنگامی اخراج کے راستے ہونا لازمی ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ جن عمارتوں میں فائر سیفٹی کا نظام اور ہنگامی اخراج کے راستے نہیں انکے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائیگی یہ خالصتا انسانی جانوں کا مسئلہ ہے عمارتوں کی انتظامیہ مالکان کے ایم سی کے عملے ساتھ تعاون کریں۔

واضح رہے کہ فائر سیفٹی کے آڈٹ کا فیصلہ حال ہی میں راشد منہاس روڈ پر نجی مال میں ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں گیارہ افراد جاں بحق ہوئے۔

فائربریگیڈ حکام کے مطابق عمارت میں ہنگامی اخراج کا داخلہ نہ ہونے کی وجہ سے جانی نقصان ہوا ہے۔

فائر سیفٹی آڈٹ کیا ہے؟

واضح رہے کہ قانون کے تحت کسی بھی رہائشی یا کمرشل عمارت کی تعمیر کی اجازت اور نقشہ اُسی وقت منظور ہوتا ہے جب ڈھانچے میں ہنگامی اخراج اور محفوظ راستوں کو دکھایا جاتا ہے جبکہ انتظامیہ یہ بھی یقین دہانی کراتی ہے کہ عمارت میں آگ بجھانے والے آلات بھی موجود ہوں گے۔

کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کا نہ ہونا آئی ایس او 9000 کی خلاف ورزی بھی کہلاتی ہے اور اس کے تحت کسی بھی دفتر یا ادارے کا لائسنس منسوخ یا پھر دفتر کو سیل کیا جاسکتا ہے۔

شہر کی بیشتر بلند و بالا رہائشی و کمرشل عمارتوں کے نقشے تو منظور ہیں مگر وہاں آڈٹ نہ ہونے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی یا انتظامیہ کی مداخلت نہ ہونے کی وجہ سے آگ لگنے کیلیے ہنگامی اقدامات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔