اسلام آباد: پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے ملٹری پر بجلیاں گرادیں انہوں نے انٹر ڈیپارٹمنٹ سزا پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے ملٹری کی جانب سے ملنے والی کورٹ مارشل کی سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کردی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے درخواست میں پنشن اور آرمی کی طرف سے ملنے والی دیگر مراعات ختم کرنے سمیت کورٹ مارشل کی کارروائی پر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
https://zaraye.com/asad-durrani-expose-usama-handover-drama/
اسد درانی نے درخواست میں موقف اختیار ہے کہ کتاب لکھ کر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا پھر بھی ملٹری کورٹ نے میرے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بطور لیفٹیننٹ جنرل ملنے والی تمام مراعات بند کریں، عدالت سے استدعا کی کہ وہ تمام مراعات بحال کرنے کا حکم جاری کرے۔
درخواست گزار نے بھارتی خفیہ ایجنسی (را) کے سابق چیف سے مل کرمشترکہ کتاب لکھی تھی۔ کتاب میں دہشت گردی، ممبئی حملہ، مسئلہ کشمیر، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار پرمتنازعہ تبصرہ کیا تھا جس کے بعد آرمی چیف نے متنازعہ کتاب پر ملٹری کورٹ کو انکوائری کا حکم دیا۔
https://zaraye.com/isi-gen-asad-durrani-and-raw-sa-doulat/
بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی تفصیلی بریفننگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اسد درانی کے خلاف کورٹ مارشل جاری ہے، ادارے نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اُن کی تمام مراعات ختم کردیں، اسد درانی کا نام ای سی ایل میں بھی شامل ہے۔
