Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
بلاول نے لاڑکانہ پہنچنے پر عدالتی ٹرائل سے متعلق کیا کہا ؟ | زرائع نیوز

بلاول نے لاڑکانہ پہنچنے پر عدالتی ٹرائل سے متعلق کیا کہا ؟

لاڑکانہ : پیپلزپارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عدلیہ میں جو ہو رہا ہے یہ الیکشن کا سوال نہیں بلکہ عدلیہ کا ٹرائل چل رہا ہے، یہ سپریم کورٹ کا ٹرائل ہے کہ وہ آئین کا تحفظ کرنے والا ادارہ ہے یا ٹائیگر فورس بننا چاہتے ہیں؟ یہ عدم اعتماد اپوزیشن کا نہیں ان ججوں کا ہے جو بینچ میں شامل تھے۔
لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول کا کہنا تھاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پہلے بھی دہشتگردوں کو شکست دی اور اب بھی دہشتگردوں کو شکست دیں گے، پولیس اہلکاروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانی دی، اہم ترین قومی معاملے پر فل کورٹ نہ بننے سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، خدانخواستہ ملک میں ایمرجنسی اورمارشل لا جیسی صورتحال نہ ہوجائے۔
بلاول کا کہنا تھاکہ جج اور کورٹ کا سنا تھا، اب تو رجسٹرار نوٹیفکیشن کے ذریعے فیصلہ اڑا سکتا ہے، فل کورٹ بنایا جائے اس میں تمام ججز بیٹھیں سوائے ان کے جو اپوزیشن سے مشورہ کرتے پکڑے گئے۔
ان کاکہناتھاکہ ڈکٹیٹر کی اولادیں پی ٹی آئی کی جماعت میں ہیں، عدلیہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ قوم کے سامنے ہے، تین جج صاحبان کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہورہا ہے، سینیئر ججز کی طرف سے عدلیہ پر تنقید ہورہی ہے، دوسرے جج نےجوڈیشل نوٹ کےذریعہ کہلوایاکہ پنجاب الیکشن پر سوموٹو بنتا ہے، آپ کے اپنے ججز آپ کے کردار کے خلاف ہیں، مناسب بات ہے کہ لارجر بینچ بنا دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عمران دور کے ناقص فیصلوں کی وجہ سے ملک کو ایک بار پھر دہشت گردی کا سامنا ہے، پیپلز پارٹی نے 1973 کے آئین کی بنیاد رکھی، پنجاب، کے پی الیکشن التوا کیس کی سماعت مکمل، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ لارجر بینچ نہیں بنتا تو تاریخ چیف جسٹس کو یاد رکھے گی، سب نے گزارش کی ہے کہ اس معاملے کی سماعت فل کورٹ کرے، اہم ترین قومی معاملے پر فل کورٹ نہ بننے سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، خدانخواستہ ملک میں ایمرجنسی اورمارشل لا جیسی صورتحال نہ ہوجائے۔