کراچی : پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے چڑیا گھر میں علیل ہتھنی ’’نورجہاں ‘‘پانی کے تالاب میں گر گئی اور پیروں پر کھڑی ہونے سے قاصر ہوگئی ہے۔
پاکستان اینیمل سوسائٹی کی بانی ماہرہ عمر نے بتایا کہ ہتھنی ’’نور جہاں ‘‘ جمعرات کی صبح سیمنٹ سے بنے ہوئے پانی کے تالاب میں پھسل کر گر گئی تھی جس کو چڑیا گھر انتظامیہ نے کرین کی مدد سے باہر نکالا۔

’فی الحال فور پاز تنظیم کے غیر ملکی ماہرین کی ٹیم ویڈیو کال سے اس کے علاج میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ نور جہاں کو یورین پاس (پیشاب) کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے ۔ وہ ریت پر بے سدھ پڑی ہوئی ہے ۔
افریقی نسل کی 17 سالہ ’’نور جہاں ‘‘چند ماہ سے بیمار ہے اور پچھلی ٹانگوں پر سوجن کی وجہ اسے نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا تھا۔ اس کو کوئی فریکچر نہیں ہوا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے احکامات پر فور پاز کے ماہرین اس سے پہلے بھی کراچی آئے تھے اور ’’نور جہاں ‘‘اور ایک دوسری ہتھنی ’’مدہو بالا‘‘ کا علاج کیا تھا۔
فور پاز تنظیم کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر عامر خلیل نے کہا کہ نور جہاں مزید 20 سے 30 سال جی سکتی ہے لیکن اس سے پہلے ہمیں کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں موجود ہاتھی ’’کاون‘‘ کے بیرون ملک بحالی مرکز منتقل کرنے کے بعد اس وقت پاکستان میں صرف 4 ہاتھی باقی ہیں اور یہ چاروں افریقی نسل کے ہاتھی کراچی میں موجود ہیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری کی بیٹی بختاوربھٹو زرداری نے کراچی کا چڑیا گھربند کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرانہوں نے لکھا کہ کراچی چڑیا گھر کو بند کیا جائے کے ایم سی میں چڑیا گھرکو چلانے کی صلاحیت نہیں ۔
انہوں نے لکھاکہ ہتھنی’’ نورجہاں ‘‘کے اپنے جنگلے میں قائم خشک تالاب میں گرنے کے بعد ہتھنی کو 5 بجے کرین کے ذریعے تالاب سے نکالا گیا۔
