اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کیلئے فنڈز کی عدم فراہمی کے معاملے پر 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ میں حکومت کو الیکشن کمیشن کوستائیس اپریل تک انتخابات کیلئےاکیس ارب روپے کے فنڈز الیکشن کمیشن کوجاری کرنے کا پھر حکم دیدیا۔
عدالت نے کہا آئین اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 روز میں انتخابات کا کہتا ہے، بادی النظر میں انتخابات کیلئے سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کا موقع دینے کی رائے درست ہے، مذاکرات کاموقع دینے کا ہرگز مطلب نہیں کہ سپریم کورٹ کا پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم ختم ہو گیا،سیاسی مذاکرات آئین سے متصادم نہیں ہونی چاہئیں۔
وزارت دفاع کی درخواست ناقابل سماعت ہونے کی بنیاد پر نمٹائی جاتی ہےسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے موقف کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا الیکشن کمیشن عدالتی کارروائی کو دوبارہ سے نکتہ آغاز پر لانا چاہ رہا ہے، فنڈز کی عدم فراہمی سے متعلق وزارت خزانہ کی رپورٹ بھی ناقابل قبول قراردی جاتی ہے۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے ملک میں ایک ہی وقت پر عام انتخابات کرانے کی وزارت دفاع کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے آبزرویشن دی منجمد سیاسی نظام چلنا شروع ہو رہا ہے، 14 مئی قریب آ چکا ہے، سیاسی جماعتیں ایک مؤقف پر آ جائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے انتخابات کے لیے فنڈز کی فراہمی سے متعلق حکومت سے دوبارہ جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی سپیشل بینچ نے سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کرکے نوٹس جاری کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو طلب کرلیا۔
چیف جسٹس نے متنبہ کیافنڈز فراہم نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج آ سکتے ہیں، سیاسی اتفاق رائے نہ ہوا تو 14 مئی کا فیصلہ نافذ کرائیں گے،مذاکرات کی بات ہے تو 8 اکتوبر پر ضد نہیں کی جاسکتی، یکطرفہ کچھ نہیں ہوسکتا، سیاسی جماعتوں کو دل بڑا کرنا ہوگا، 90 دن کا وقت 14 اپریل کو گزر چکا،آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات کرانے لازم ہیں، توقع ہے حکومت انتخابات کے لیے فنڈ نہ جاری کرنے پر نظرِ ثانی کرے گی۔
انہوں نے الیکشن کمیشن کے موقف اور وزارت دفاع کی درخواست پر سوالات اٹھائےاور کہاالیکشن کمیشن نے پہلے کہا وسائل دیں الیکشن کروالیں گے، اب کہتے ہیں پنجاب کے انتخابات سے ملک میں انارکی پھیل جائے گی، الیکشن کمیشن تو پورا مقدمہ دوبارہ کھولنا چاہتا ہے، وزارت دفاع کی رپورٹ میں عجیب سی استدعا ہے، کیا وزارت دفاع ایک ساتھ الیکشن کرانے کی استدعا کرسکتی ہے؟، درخواست ناقابل سماعت ہے۔
ملاقات میں افسران کو بتایا تھا، دوران سماعت یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا، سب کو بتایا فیصلہ ہو چکا ہے، اب پیچھے نہیں ہٹ سکتے، الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی درخواستیں فیصلے واپس لینے کی بنیاد نہیں۔
تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری کے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کیا آپ سڑکوں پر تصادم چاہتے ہیں؟ ،سیاسی عمل آگے نہ بڑھا تو الیکشن میں تصادم ہوسکتا ہے، سیاسی اتفاق رائے ہوا تو 14 مئی کا فیصلہ نافذ کرائیں گے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہادونوں فریقین کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ چیف جسٹس نے نگران حکومت کی90دن سے زیادہ مدت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا 90دن 14اپریل کو ختم ہوگئے۔
جسٹس منیب اختر نے سپلمنٹری گرانٹ کا بل اسمبلی میں مسترد ہونے پر سوال اٹھایا اور آبزرویشن دی کیا کبھی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری لینے میں حکومت کو شکست ہوئی؟، وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونی چاہیئے،کیا حکومت کی بجٹ کے وقت اکثریت نہیں ہونی چاہئیے؟۔
اٹارنی جنرل کو عدالتی احکامات حکومت کو پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاحکومت کا گرانٹ مسترد ہونے کا خدشہ اسمبلی کے وجود کے خلاف ہے، توقع ہے کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی، حکومت فیصلہ کرے یا اسمبلی کو واپس بھجوائے، جواب دے،اس معاملے کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں،فی الحال غیر معمولی نتائج پر نہیں جانا چاہتے، دہشتگردی 1992 سے جاری ہے،1987، 1991، 2002، 2008، 2013 اور 2018 میں الیکشن ہوئے، سیکیورٹی کے مسائل ان انتخابات میں بھی تھے،کیا گارنٹی ہے کہ 8 اکتوبر کو حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟، وزارت دفاع نے بھی اندازہ ہی لگایا ہے، حکومت اندازوں پر نہیں چل سکتی،اب ایسا کیا منفرد خطرہ ہے جو الیکشن نہیں ہو سکتے، معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے، حکومت نے اپنا ایگزیکٹو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں؟۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو وزارت خزانہ کی رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کی اور ریما رکس دیئے عدالت کو بتایاگیا تھا ضمنی گرانٹ جاری ہونے کے بعد منظوری لی جائے گی لیکن اس کے برعکس معاملہ ہی پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا، کیا الیکشن کے لیے ہی ایسا ہوتا ہے یا عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے؟۔اٹارنی جنرل نےکہاقائمہ کمیٹی کی ہدایت پر معاملہ پارلیمان کو بھیجا گیا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا قائمہ کمیٹی میں حکومت کی اکثریت ہے، حکومت کو گرانٹ جاری کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟،اٹارنی جنرل نے کہا قومی اسمبلی کی قرار داد کی روشنی میں معاملہ پہلے منظوری کے لیے بھیجا گیا تھا۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا جب آئین حکومت کو اختیار دیتا ہے تو اسمبلی قرارداد کیسے منظور کرسکتی ہے؟، کیا بجٹ کے وقت حکومت کی اکثریت نہیں ہونی تھی؟ ،جو بات آپ کر رہے ہیں وہ مشکوک لگ رہی ہے، کیا کبھی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری لینے میں حکومت کو شکست ہوئی؟،کیا قرار داد کی منظوری کے وقت گرانٹ منظوری کے لیے پیش کی گئی تھی، کیا آپ کو سپلیمنٹری بجٹ مسترد ہونے کے نتائج کا علم ہے، اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو کیا ضمنی گرانٹ منظور نہیں کرا سکتی تھی، اٹارنی جنرل صاحب سمجھنے کی کوشش کریں معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔
چیف جسٹس نے کہا الیکشن کمیشن کہتا ہے اکتوبر تک الیکشن نہیں ہوسکتے، کمیشن نے ایک ساتھ الیکشن کرانے کا بھی کہا ہے، اس بات پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں، الیکشن کمیشن کی آبزرویشن کی بنیاد سکیورٹی کی عدم فراہمی ہے، اب ایسا کیا منفرد خطرہ ہے جو الیکشن نہیں ہو سکتے،کیا گارنٹی ہے8 اکتوبر کوحالات ٹھیک ہو جائیں گے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا گزشتہ سال ایک حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، عدالت نوٹس نہ لیتی تو قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی تھی، صوبائی اسمبلیوں کے ہوتے ہوئے قومی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہونے ہی تھے، آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کا وقت مقرر ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاعدالت کو کہاں اختیار ہے الیکشن اگلے سال کرانے کا کہے؟،الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے پر انتخابات کرانے کا کہا تھا،الیکشن کمیشن کا کہنا تھا ہم آگے بڑھیں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے، فنڈز کے حوالے سے عدالتی حکم ایک سےدوسرے ادارے کو بھیجا جا رہا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا جو پیغام آپ دینا چاہ رہے ہیں وہ سمجھ گیا ہوں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا گارنٹی ہے 8 اکتوبر کو الیکشن ہوجائیں گے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا فوج نے انتخابات کے مقررہ وقت کے مطابق آپریشنز شروع کیے تھے۔
جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا 2018 کے انتخابات میں بنیادی حقوق معطل تھے؟ ،وفاقی حکومت آرٹیکل 245 کا اختیار کیوں استعمال نہیں کر رہی؟ کیا آئین بالادست نہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا افواج نے ملک کے لیے جانوں کی قربانیاں دی ہیں، افواج پاکستان کا تو سب کو شکر گزار ہونا چاہیئے۔چیف جسٹس نے کہا27 مارچ کو عدالتی کارروائی شروع ہوئی ،4 اپریل کو فیصلہ آیا، پہلے 4/3 کا معاملہ تھا ،پھر فل کورٹ کا بائیکاٹ ہوا لیکن کسی نے سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں اٹھایا۔
اٹارنی جنرل نے کہامیری درخواست پر ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بریفنگ دی ۔ چیف جسٹس نے کہا ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع بھی موجود تھے، ٹی وی پر سنا ہے وزرا کہتے ہیں اکتوبر میں بھی الیکشن مشکل ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہاکوشش ہے سیاسی ڈائیلاگ شروع ہو، ایک کے علاوہ تمام حکومتی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں، عدالت کچھ مہلت دے تو معاملہ سلجھ سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل کی بات میں وزن ہے، معاملے کو زیادہ طویل نہیں کیا جا سکتا،عید کی چھٹیاں آ گئی ہیں، ساتھی ججز کہتے ہیں5 دن کا وقت بہت ہے۔
شاہ خاور ایڈوکیٹ نے کہا عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ضروری ہے، لوگ کنفیوز اور ٹینشن میں ہیں، چیف جسٹس نے کہا بحث ہو رہی تھی تو اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ کیوں نہیں اٹھایا؟ ،انکو نہ جانے کس نے 4/3 پرزور دینے کا کہا، ان سے پوچھیں گے کس نے ان کو یہ مؤقف اپنانے سے روکا، آپ کی تجویز ہے سیاسی جماعتیں مذاکرات کریں، عدالت نے یقین دہانی کرانے کا کہا تو حکومت نے جواب نہیں دیا، حکومت نے آج پہلی بار مثبت بات کی، نگران حکومت 90 دن سے زیادہ برقرار رہنے پر بھی سوال اٹھتا ہے،تاریخ پر جماعتیں مطمئن ہوئیں تو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گا، قوم کی تکلیف اور اضطراب کا عالم دیکھیں۔
فیصل چوہدری نے کہا آپ سے بہت امید ہے، وزیر داخلہ ہر گھنٹے بعد عدالت کو دھمکیاں دیتےاور کہتے ہیں جو مرضی کر لیں 14 مئی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔سپریم کورٹ نے بعد ازاں عبوری تحریری حکم نامہ میں کہا تمام سیاسی جماعتیں اپنے نمائندے نامزد کریں جوآج پیش ہوں،مذاکرات کا موقع دینے کی رائے درست ہے،14مئی کو انتخابات کرانے کا حکم اب بھی ہے۔
