Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
مہاجروں کی پہچان ، احمد اشفاق | زرائع نیوز

مہاجروں کی پہچان ، احمد اشفاق

لوگوں کو یہ گمان ہے کہ اگر آپ کراچی میں ہی پیدا ہوئے ہیں ، پاکستان میں ہی آنکھ کھولی ہے تو مہاجر کیسے ہیں- اس بات پر وقت ضائع کیے بغیر کہ میں اب بھی مہاجر ہوں یا نہیں ، میں آپ سے یہ بات منوا لیتا ہوں کہ میں ایک مہاجر گھرانے کا فرد ہوں- ظاہر ہے کہ میرے والد نے اگر ہجرت کی ہے تو میرا خاندان بھی ان مہاجرین میں سے ہی ہے جنہوں نے یہ وطن بنایا ہے-

مجھے دکھ اور شدید دکھ ہوتا ہے جب میں دیگر قومیت کے لوگوں کو مہاجروں کی شناخت گٹکے ، ابے تبے ، گالی یا غداری سے کرتا دیکھتا ہوں- ان کا قصور بھی نہیں ہے ، انہوں نے مہاجروں کے بارے میں ایک رائے قائم کر رکھی ہے ، اسے بدلنا بہت مشکل ہے- آج بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ میں نے ایک مقام پر یہ بحث سنی جہاں مہاجروں کی شناخت کو گٹکے ،بد اخلاقی و بد تمیزی سے تعبیر کیا گیا- سو آج میں اپنی قوم کی طرف اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ آپ کو بتاؤں کہ ایک مہاجر گھرانہ ہوتا کیسا ہے-

میں نے ایک مہاجر گھرانے میں آنکھ کھولی ہے ، جانتے ہیں میں نے کیا سیکھا ہے ؟ میں نے اس وطن سے محبت سیکھی ہے ، میں نے یہ جانا ہے کہ اس ملک کو بنانے کے لئے کتنا خون بہایا گیا ہے ، مجھے اس خون کا پاس ہے ، احساس ہے- میں نے اپنی زبان سے پیار کرنا سیکھا ہے- مجھے عاجزی سکھائی گئی ہے ، انکساری سکھائی گئی ہے- مجھے بتایا گیا ہے کہ شکریہ یا برائے مہربانی کہنے سے عزت کم نہیں ہوتی- مجھے یہ الفاظ استعمال کرنا سکھائے گئے ہیں- کسی نے درست کہا ہے کہ یہ جادوئی الفاظ ہیں- میں ان کا استعمال جانتا ہوں-

مجھے دوسروں کو اپنی نشست دینا سکھایا گیا ہے ، مجھے سکھایا گیا ہے کہ اپنے پیچھے آنے والے کے لئے دروازہ تھام رکھو- میری تربیت اس طرح کی گئی ہے کہ میں اپنے سے کم عمر کو بھی آپ کہہ کر مخاطب کروں- مجھے لوگوں کی عزت کرنا سکھائی گئی ہے- مجھے سکھایا گیا ہے کہ اپنے سے بڑے کے سامنے کیسے بیٹھنا ہے ، ٹانگ پر ٹانگ نہیں رکھنی ، پیر نہیں ہلانا ہے- کوئی لیٹا ہے تو اس کے سرہانے کس طرح بیٹھنا ہے- کسی سے راستہ مانگنا ہے تو کیسے مانگنا ہے ، راستہ بتانا ہے تو کیسے بتانا ہے- ہم نے راہ چلتوں کا بوجھ بانٹنا سیکھا ہے-

ہم نے بیٹیوں کو جگر گوشہ سمجھا ہے- ہمیں غیرت کا حقیقی مفہوم سکھایا گیا ہے ، غیرت کے نام پر جان لینا نہیں- ہمیں سکھایا گیا ہے کہ قرآن سے ہدایت لینی ہے ، لڑکیوں کی شادی نہیں کرنی- ہم نے قرآن کو نجات کے لئے سینے سے لگایا ہے ، قسم اٹھانے کے لئے نہیں- ہم نے گھٹنوں کو چھونا نہیں سیکھا ، ہم نے پگڑی اور دوپٹے قدموں میں رکھنے کو گناہ جانا ہے- ہم نے اسلحے کو نہیں تعلیم کو زیور جانا ہے- ہم نے شیعہ اور سنی کو بھائی مانا ہے- ہم نے فرقہ واریت کے نام پر کلہاڑیاں نہیں چلائیں- ہم نے بچوں کو زندہ زمین میں نہیں دفنایا ہے- ہم نے لڑکے اور لڑکی میں تفریق نہیں کی ہے ، ہم نے دونوں کو بنیادی حقوق دیے ہیں- ہم نے نہ تو عورت کے ووٹ ڈالنے کو برا جانا ہے اور نہ ہی سکول جانے کو- ہمیں اسلام کے اصولوں کے مطابق برابری سکھائی گئی ہے، کسی چودھری یا سردار کی غلامی نہیں-

مہاجروں کی پہچان یہ اور ایسے سینکڑوں عوامل ہیں جن میں سے چند یہاں بیان ہوئے ہیں- درج کی گئی تمام باتوں کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ دیگر قومیتوں میں یہ تمام برائیاں ہیں اور مہاجر کسی سے برتر ہیں- لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہمارے معاشرے میں یہ سب عیوب موجود ہیں- قرآن سے شادی ہو یا کارو کاری ، بچوں کی کم عمری میں شادی ہو یا زندہ درگوری ، فرقے کے نام پر قتل ہو یا غیرت کے نام پر، چودھری کی چودراہٹ ہو یا سردار کی سرداری یہ سب اس ملک میں رائج ہے- مہاجر کم از کم اتنا شعور رکھتے ہیں کہ اس قسم کی ذہنی غلامی اور اخلاقی پستی سے آزاد ہیں-

اگر مہاجروں میں کچھ لوگ گٹکا یا پان کھاتے بھی ہیں تو آپ سے کس نے کہا ہے کہ آپ ان سے گٹکا لے کر اپنائیے ؟ آپ ان سے اس کے سوا ہزاروں چیزیں سیکھ سکتے ہیں، اپنے ارد گرد نظر تو دوڑائے ، ابھی بہت کچھ ہے جو آپ نے سیکھنا ہے- سیکھنے کا عمل تو قبر تک چلتا ہی ہے ، اور شروعات کہیں سے تو کرنی ہی ہے ، تو آئیے میں بتاتا ہوں کہ آپ مہاجروں سے سب سے پہلی چیز کیا سیکھ سکتے ہیں- سب سے پہلے مہاجروں کو پاکستانی کہنا سیکھئے بالکل اسی طرح جس طرح وہ آپ کو پاکستانی کہتے ہیں جب تک آپ یہ نہیں سیکھیں گے کچھ اور نہیں سیکھ سکیں گے – کیونکہ تعصب کی عینک سے آپ کو صرف گٹکا ہی نظر آئے گا—–

احمد اشفاق