ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر اور سابق وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی کی والدہ طویل علالت کراچی کے نجی اسپتال میں دم توڑ گئی۔
خالد مقبول صدیقی کی والدہ طویل العمری کے باعث بیماریوں اور طبی پیچیدگیوں کا شکار اور کوئی روز سے گلستان جوہر میں قائم نجی اسپتال دارالصحت میں زیر علاج تھیں۔ طویل العمری کے باعث ڈاکٹرز پہلے ہی دن سے کسی امید کی توقع نہین دلا رہے تھے۔
خالد مقبول صدیقی کی والدہ نے اپنی آخری سانس نجی اسپتال میں پیر کو شام کے وقت لی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ خالد مقبول صدیقی کی والدہ کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر فیڈرل بی ایریا بلاک 8 مدنی مسجد نزد جناح گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین یاسین آباد قبرستان میں کی جائے گی۔
ایم کیو ایم ترجمان نے تمام کارکنان اور عوام سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں جنازے میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام کارکنان خالد مقبول صدیقی کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
دوسری جانب نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کے درجات بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔
ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی اور تمام لواحقین کیلیے صبر جمیل کی دعا کی اور کہا کہ ایک ایک کارکن دکھ کی اس گھڑی میں ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ایم کیو ایم کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی والدہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے اظہار تعزیت کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالی سے مرحومہ کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کو صبر دے۔
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر نثار کھوڑو کا ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی والدہ کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والدہ کے انتقال پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ رب پاک مرحومہ کو جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے اور ورثاء کو صبر کی توفیق دے۔
