کراچی: شہر قائد میں بجلی و پانی کی عدم فراہمی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج جاری ہے جبکہ مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر دکانیں بند کروادیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کا کراچی میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، پانی کی عدم فراہمی اور مہنگائی کے خلاف احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال پر شارع فیصل ملیر ہالٹ کے قریب دھرنا دیاجارہاہے جبکہ ملیر، کالابورڈ کی سڑک ٹریفک کیلئے مکمل بند ہے۔
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے دکانیں بند کرادیں اور سڑک پر ٹائر نزر آتش کیے جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے اور شہریوں کو آمدورفت میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری بھی شارع فیصل پر موجود ہے۔
لیاقت آباد، واٹر پمپ، فیڈرل بی ایریا میں بھی جماعت اسلامی کے نامعلوم افراد نے اہم شاہراؤں پر کھلنے والی دکانیں علی الصباح بند کروائیں ساتھ ہی جو اسکول کھل گئے انہیں بھی بند کروایا۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے 27 اپریل کو کراچی میں بجلی و پانی کی عدام فراہمی اور مہنگائی کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے شہر میں پرامن احتجاج اور ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے دورہ کراچی کے موقع پر شہر سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا تاہم صورتحال اب بھی جوں کی توں موجود ہے شہری بجلی و پانی کو ترس گئے ہیں۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
