اسلام آباد: سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں فیصل رضا عابدی کی بنچ تبدیل کرنے کی استدعا منظور کرلی۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصل رضا عابدی کےخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔فیصل رضا عابدی کے وکیل نے عدالت عظمیٰ سے بنچ تبدیل کرنے کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی۔
سابق سینیٹر کی جانب سے کیس کو کراچی رجسٹری منتقل کرنے کی بھی استدعا کی گئی جو عدالت نے مسترد کردی۔
دورانِ سماعت کیا ہوا؟
چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت کہا کہ فیصل رضا عابدی نے تحریری طور پر معافی نہیں مانگی وہ توہین عدالت نوٹس میں جواب داخل کریں،اس پر وکیل امجد بخاری نے کہا کہ ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل رضا عابدی کی متفرق درخواستیں خارج کرتے ہیں،توہین عدالت کیس میں جواب داخل کرایا جائے۔
وکیل امجد بخاری نے سوال کیا کہ کیافیصل رضاعابدی کوموقف پیش کرنےکاحق نہیں؟،اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے امجد بخاری سے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں ؟،عدالت سے آپ کا رویہ درست نہیں ،اس پر امجد بخاری نے کہا کہ میں 32 سال سے سپریم کورٹ کا وکیل اورقانون کا طالب علم ہوں ۔
واضح رہے کہ نجی ٹی وی ٹاک شو میں فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس اور عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصف اعلی کو دودھ مرغیوں کی فکر ہے اس لیے وہ ازخود نوٹس لیتے ہیں جبکہ عوام کے معاملات کی انہیں کوئی فکر نہیں۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
