Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سانحہ مستونگ اور ہارون بلور کی شہادت میں‌ کون ملوث تھا سب سامنے آگیا | زرائع نیوز

سانحہ مستونگ اور ہارون بلور کی شہادت میں‌ کون ملوث تھا سب سامنے آگیا

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور کو خود کش حملے میں شہید کرنے والے بم بار کی شناخت ہوگئی، حملہ آور ہنگو کا رہائشی تھا۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے پولیس حکام نے ہارون بلور پر خود کش حملہ کرنے والے کی شناخت کر لی ہے، بم بار کا تعلق کے پی کے ضلع ہنگو سے تھا۔

قبل ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ہارون بلور شہادت کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں کے پی پولیس حکام کو طلب کیا، پولیس حکام نے قائمہ کمیٹی کو کیس میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔

پولیس حکام نے کہا کہ وہ دہشت گرد کے سہولت کاروں کے بھی قریب پہنچ گئے ہیں، پولیس کے مطابق وہ بم بار کے سہولت کاروں تک جلد پہنچ جائے گی۔

دوسری جانب ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مستونگ واقعے کے پہلے دن سے تحقیقات کررہے تھے، خودکش حملہ آور سمیت سہولت کاروں کی شناخت ہوگئی، تمام لوگ مقامی رہائشی تھے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ مستونگ میں 150 افراد شہید، 250 زخمی ہوئے، خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے، خودکش حملہ آور کا نام حفیظ، میرپور ساکھرو ٹھٹھہ کا رہائشی جبکہ بروہی زبان سے لاعلم تھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ حملہ آور کارنر میٹنگ میں چوتھی لائن میں بیٹھا تھا، اسٹیج کے سامنے آکر خودکو اُڑایا، حملہ آور نے بی این پی کا جھنڈا اُٹھایا ہوا تھا، حملہ آور کے والد کے مطابق حفیظ اور اس کی بہنیں افغانستان گئی ہوئی تھیں۔

اعتزاز گورایہ کے مطابق سہولت کار گروپ کا بھی سراغ ملا ہے، جو شخص حملہ آور کو لایا وہ مقامی تھا، کارنر میٹنگ میں کسی بھی شخص کو چیک نہیں کیا گیا، اکٹھے کیے گئے فرانزک شواہد کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔

اعتزاز گورایہ نے کہا کہ گرفتاری کے لیے آپریشنز کررہے ہیں، چاغی سے تاحال کوئی سہولت کار گرفتار نہیں ہوا ہے۔

بشکریہ


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔