کراچی: ایم کیو ایم کے نامزد کردہ امیدوار برائے رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی پر قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق علی رضا عابدی اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ مٹینگ میں مصروف تھے کہ اچانک وہاں مسلح نوجوان پہنچا جس کے پاس پستول تھا۔
مذکورہ نوجوان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو اُس کے پاس لگا ہوا پستول جس میں گولیاں بھی موجود تھیں اچانک زمین پر گر گیا جس کے بعد وہاں موجود لوگوں نے اُسے قابو کیا۔
نوجوان کی مشکوک حرکات دیکھ کر وہاں موجود ایم کیو ایم کارکنان نے اُس سے پوچھ گچھ شروع کی تو معلوم ہوا کہ وہ علی رضا عابدی کو قتل کرنے کی نیت سے یہاں پہنچا۔

ایم کیو ایم کارکنان نے نوجوان کو پولیس کے حوالے کردیا جس نے پولیس سے سوال جواب کے دوران بھی اپنے مذموم ارادے کا اعتراف کیا۔
مزید پڑھیں: این اے 243، کراچی کے اہم مسئلے پر انتخابی مہم
واضح رہے کہ علی رضا عابدی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 243 سے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر انتخابات لڑ رہے ہیں اُن کے مدمقابل تحریک انصاف کےچیئرمین عمران خان اور پیپلزپارٹی کی شہلا رضا ہیں۔
ایم کیو ایم کے نمائندوں میں اب تک علی رضا عابدی وہ واحد امیدوار ہیں جن کو عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے اور اُن کی فتح بھی یقینی نظر آرہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد بین السلمین، کراچی کی سیاست میں پروقار منظر، علی رضا عابدی نے مثال قائم کردی
ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ حلقے کے عوام مایوس تھے البتہ اُن کی شکایات کو دور کردیا گیا، اب این اے 243 میں پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی دوسری و تیسری پوزیشن کے لیے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
