سعید غنی کے انڈر ورلڈ کارندوں اور منشیات فروشوں سے تعلقات، سینئر صحافی مزمل فیروزی اہم تصاویر کے ساتھ اہم شواہد سامنے لے آئے
کراچی (خصوصی رپورٹ: مزمل فیروزی) : پانامہ پیپر کیس ایک ویب سائٹ کی رپوٹس پر مبنیٰ تھاجبکہ پیپلز پارٹی کے وزراء کے ڈرگ مافیا،جرائم پیشہ افراد و ملک دشمن عناصر سے روابط ایک ایماندار و فرض شناس سینئر پولیس آفیسر کی رپورٹس پر مشتمل ہے جو نظر انداز کر نے کے قابل نہیں اور کسی طورپر بھی منی لانڈرنگ، اثاثے چھپانے ناجائز ذرائع آمدن سے جائیداد بنانے کے اقدام سے کم سنگین نہیں ہے۔سابق ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ کو لیکر کئی ذمہ دار شہریوں نے عدالت سے رجوع کیا جن میں سب سے متحرک ایڈوکیٹ سید اقبال کاظمی ہیں،کاظمی صاحب کی دائر کردہ پٹیشن کے مطابق لیاری گینگ وار کے خاتمہ کے بعد سعید غنی نے کراچی کے مختلف علاقوں میں لیاری کے بدنام زمانہ مجرموں کو فعال کرکے نیا گروپ تشکیل دیا ہے جس کی مکمل تفصیلات انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی پٹیشن سے منسلک کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد میں کس طرح استعمال کیا جارہاہے جبکہ صوبائی اسمبلی میں کچھ ایسے افراد موجود ہیں جو قتل اقدام قتل کے مقدمات کے ساتھ ساتھ ڈاکوں اور منشیات فروشوں کی مکمل سر پرستی اور پشت پناہی کرتے ہیں۔اور ان غیر جرائم پیشہ افراد کی معاونت کے لئے اپنے مخصوص پولیس اہلکاروں اور افسران کو اپنے علاقوں میں تعینات کراتے ہیں بالکل ایسا ہی ڈاکٹر رضوان کا پنجاب میں تبادلہ کرکے کیا جارہا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی اور ان کے بھائی فرحان غنی کے جرائم پیشہ افراد سے قریبی روابط ہیں۔چنیسر گوٹھ میں فرحان غنی جرائم پیشہ افراد سے مستقل رابطے میں ہیں جس کا کال ریکارڈ بھی رپورٹ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق منشیات فروشوں کا قریبی ساتھی ظہیر احمد سعید غنی کے دفتر میں ملازم ہے۔ اس رپورٹ میں محمود آباد پولیس اسٹیشن کے پولیس اہلکار کی منشیات فروشی میں ملوث ہونے اور اس گروپ سے وابستہ محکمہ ایکسائز کے ایک اہلکار کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اہلکار مبینہ طور پر منشیات فروشوں کو پولیس کی کسی بھی کارروائی سے آگاہ کرتے تھے، جس کی وجہ سے جرائم پیشہ کے خلاف کاروائی میں ناکامی ہوتی تھی۔

صوبائی وزیر سعید غنی سال 2001سے2010تک یوسی ناظم رہے بعداذاں 2012کو انہیں سینٹ کی سیٹ دی گی اور وہ 2017تک سینٹ کے ممبر رہے اور پھر وہ صوبائی اسمبلی کے ممبربن گے۔دوران سینیٹر اور ممبر صوبائی اسمبلی بننے کے بعد ان کی اوران کی فیملی کی جائیدادوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور یہ کسی طور ممکن نہیں کہ جائزآمدنی سے ان کے بھائی پینا فلیکس کے کام سے پراپرٹی کے بہت بڑے ڈیلرز بن گئی ہیں،محمود آباد سے لیکر ضلع ٹھٹہ تک میں تجارتی وزرعی زمین اورپراپرٹی کے کاروبار کو پھیلا دیاہے۔صاف ظاہر ہے کہ راتوں رات کروڑ پتی ایمانداری کے کام سے تو بن نہیں سکتے، غیر قانونی کام اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی سے ہی بنتے ہیں۔ غیرقانونی رقم یعنی بلیک منی کو وائٹ منی میں تبدیل کر نے کے لئے ان کے بھائی کاروبار میں لگاکر کرتے ہیں۔جس کا سراغ لگانا قانون نافذکرنے والے اداروں کا کام ہے مگر من مانے اور پسندیدہ افسران کو تعینات کرواکر ابھی تک وہ کاروائی سے بچے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر سعیدغنی کا ایک اہم سرغنہ حسن ناتھا ولدناتھا چنیسر گوٹھ آپریشن کے دوران اسے گرفتار کیا گیا اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں چرس برآمد ہوئی اسکے علاوہ بھی وہ دوسرے جرائم میں بھی ملوث ہے۔ ایک اور اہم ساتھی محمدعادل ولد محمد حدیث دوران ڈکیتی پاکستان بازار تھانہ اورنگی ٹاؤن کراچی میں گرفتار ہوا جس کی ایف آئی آر نمبر95/2020زیر دفعہ392/397/34ہے۔ سیکورٹی گارڈ نوید عرف ڈون ولد محمد حسن،سزا یافتہ ہے اور اغوا برائے تاوان کا مجرم ہے اس پرمتعدد کیس رجسٹرڈ ہیں۔اس عادی ملزم کو سعید غنی کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔

وسیم عرف چھانگا ایکسائز ڈپارٹمنٹ ک ملازم تھا ہیروین کا ڈیلر اور سعید غنی و فرحان غنی کا قریبی ساتھی ہے اور فرحان غنی کے گن مین کے فرائض بھی انجام دیتا ہے۔ فرحان حنیف عرف شلہ ولد حنیف اینٹی نارکوٹکس کیسز میں مطلوب ہے، سعید غنی و فرحان غنی کا قریبی ساتھی ہے۔ ایازعرف ڈابلا ولد محمد انور سعید غنی کا عزیز اور گن مین ہے متعدد مقدمات قائم ہیں،جن میں وہ پولیس کو مطلوب ہے۔ اسماعیل ولد امیر بخش،سعید غنی کا کزن اورچینسر گوٹھ میں اس نے جوا اور سٹے کے ادے قائم کئے ہوئے ہیں۔

طارق عرف ڈینی ولد نظر محمد آئس ڈیلر ہے،فرحان غنی کا قریبی ساتھی ہے۔ شیرمحمد عرف شیرا سعید غنی کاعزیز،ڈرگ ہول سیلر اور وحید غنی کے سالی کا بیٹا ہے۔ نور محمد عرف کوڈو ہیروئن کا ڈیلر اورسعید غنی کے قریبی ساتھی محمد اعظم کا چھوٹا بھائی ہے اور متعدد کیسوں میں پولیس کومطلوب ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں سعید غنی اور انکے بھائیوں کے ساتھی منشیات کے کاروبار سے منسلک ہیں جن کے مقدمات کی تفصیل،سی ڈی آر ریکارڈ میں فرحان غنی جو کہ سعید غنی کی سر پرستی میں منشیات کے کاروبار کا نگراں ہے اسکے رابطوں کی تفصیل موجود ہیں۔

منشیات فروش نعمان خان، چیئر مین یوسی 4 فرحان غنی کا خصوصی گن مین ہونے کے ساتھ ساتھ دوست بھی ہے۔اور اس کے صوبائی وزیر سعید غنی کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں۔ منشیات فروش نعمان خان کو آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے قبضے سے ایک ٹی ٹی پستول بھی برآمد ہوا تھا جس کی ایف آئی آر تھانہ محمود آباد میں درج ہوئی۔ وزیر سید غنی اور چیرمین یوسی 4 فرحان غنی نے پولیس کو نعمان خان کی رہائی کے لئے دباؤ ڈالنے کے لئے کال کی تھی۔لیکن اس پر اسلحہ کیس میں مقدمہ درج تھا۔جس کی وجہ سے پولیس نے اسے رہا کرنے سے انکار کردیا۔اس کا اقرار صوبائی وزیر سعید غنی نے پریس کانفرنس میں بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ: اس رپورٹ میں جو میرے خلاف بنائی گی ہے اس میں کئی لوگوں کے نام انہوں نے لئے ہیں۔۔۔ان کو جھوٹے کیس میں پکڑا ہے اور گرفتار کر نے کے بعد چرس، ہیروئن اور اسلحہ ڈالا ہے۔۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے پریس کانفرنس میں جس فیصل لودھی کی کھل کرحمایت اور پشت پناہی کرتے رہے اس کامزید ثبوت یہ ہے کہ فیصل لودھی ولد افضل لودھی جو کہ پہلے ایم کیوایم کا سرگرم کارکن اور مختلف جرائم میں ملوث تھا اس نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں سیاسی چھتری کو استعمال کرنے کے لئے پی ایس پی جوائن کی جب وہاں پر اس کو مجرمانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں ملی تو پھر وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوکر صوبائی وزیر سعیدغنی کااہم کارکن بن گیا۔وہ پیشہ ور قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ ڈکیتی کی وارداتیں اپنے چار رکنی گروپ کے ساتھ کرتا تھا جس میں میں عبدالصبور اورمحمد عمران کے ہمراہ ت دو اور لوگ شامل تھے۔

جمشید کوارٹر کی حدود مارٹن کوارٹر میں دوران ڈکیتی ایک دوشیزہ کو اس کے والدین اور بھائی کے سامنے ذیادتی کا نشانہ بناکر قتل کردیا۔جس کی ایف آئی آر نمبر149/2017تھانہ جمشید ٹاؤن میں درج ہوئی۔بعداذاں پولیس مقابلہ میں فیصل لودھی ہلاک ہو ااور اس کے دونوں ساتھی عبدالصبور اورمحمد عمران گرفتار ہوئے۔جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگے۔مورخہ:26مارچ2020کو انسداددہشت گردی کی عدالت نمبر13نے دونوں ملزمان کوعمرقید کی سزا سنائی۔صوبائی وزیر سعید غنی پریس کانفرنس اور میڈیا کو دیے گے بیانات میں باقاعدہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے عزیز رشتہ دار منشیات کا کاروبار کرتے ہیں۔وہ پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ میرے علاقے کے لوگوں کو کہ میرے کئی رشتے دار ان کاموں میں ملوث ہیں۔پھر بھی قانونی ادارے انکے کیخلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہے۔
